خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 192

$1948 192 خطبات محمود اور باطنی امور میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔بسا اوقات ایک چیز ظاہر میں بُری ہوتی ہے لیکن باطن میں اچھی ہوتی ہے۔ڈاکٹروں کو ہی دیکھو ایک شخص کو دست آتے ہیں وہ آکر ڈاکٹر سے کہتا ہے کہ مجھے دست آتے ہیں۔ڈا کٹر کہتا ہے کہ اسے کسٹرائل دے دو یا منگنیشیا دے دو۔اس سے دست اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔اس پر وہ پھر شکایت لے کر آتا ہے تو ڈاکٹر کہتا ہے اسے منگنیشیا کی اور ڈوز دے دو۔ڈاکٹر جانتات ہے کہ دستوں کا سبب غذا کی سڑا نڈ تھی۔جب تک سڑانڈ نکالی نہ جائے گی دست بند نہیں ہوں گے۔اس طرح گودست بڑھ جائیں گے مگر دستوں کے بڑھنے سے ہی دست رکنے لگیں گے۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے تو اس کے معنے در حقیقت یہی تھے کہ تیرے بھائی کا علاج تو ہو رہا ہے مگر تم یہ سمجھتے ہو کہ علاج نہیں ہو رہا۔تم یہ شکایت کرتے ہو کہ تمہارے بھائی کے دست بڑھ رہے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ دستوں کے بڑھنے سے ہی اس کے دست بند ہوں گے۔غرض ہماری جماعت کا سب سے پہلا فرض اپنے نفس کی اصلاح ہے اور نفس کی اصلاح کے بعد خدمت خلق ہے جس میں سے مقدم چیز تبلیغ ہے۔بھلا یہ کوئی عقل کی بات ہے کہ ایک طرف تو ہم یہ دعوی کریں کہ دنیا ہمارے ہاتھ پر فتح ہوگی اور دوسری طرف دنیا کو فتح کرنے کا جو ایک ہی ذریعہ ہے یعنی اسلام اور احمدیت کی تبلیغ اس کی طرف توجہ نہ کریں۔دنیا کی فتح کے یہ معنے تو نہیں کہ دس نہیں آدمی ڈنڈے لے کر کھڑے ہو جائیں گے اور دوارب کی دنیا پر حکومت شروع کر دیں گے۔دنیا کی فتح کے یہ ہیں کہ دنیا کی دو ارب آبادی میں سے کم از کم سوا ارب احمدی ہو جائیں۔اور یا پھر ان لوگوں کو اگر ہم تبلیغ نہیں کرتے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ احمدیوں کو اتنی طاقت حاصل ہو جائے گی اور ساتھ ہی وہ چی اتنے ظالم بن جائیں گے کہ وہ دوسرے لوگوں کے حقوق کو تلف کر کے اُن پر جابرانہ اور ظالمانہ حکومت کرنی شروع کر دیں گے۔ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی ساری دنیا کو مار ڈالے اور صرف احمدی ہی دنیا میں باقی رہ جائیں۔آخر ہم اگر تبلیغ سے کام نہیں لیتے اور ساتھ ہی یہ امید رکھتے ہیں کہ دنیا پر غالب آجائیں گے تو سوائے ان دو باتوں کے ہم دنیا پر غالب ہی کس طرح آسکتے ہیں۔دنیا پر غالب یا تم تبلیغ کے ذریعے آسکتے ہو اور یا پھر دنیا پر غالب آنے کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم ایٹم بم کی ایجاد کر لیں اور لوگوں کو ایسا ڈرائیں کہ ہمارے چند لاکھ آدمیوں کے سامنے سب لوگ ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جائیں اور جو حکم