خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 194

$1948 194 خطبات محمود بے شک نفس کی اصلاح بھی ایک ضروری چیز ہے مگر دوسرا قدم تبلیغ کا ہے۔اگر تم چاہتے ہو کہ دنیا میں مومن ہی مومن نظر آئیں اور یہ دنیا مومنوں سے آباد ہو تو اس کا یہی ایک طریق ہے کہ تبلیغ کرو اور لوگوں کو احمدی بناؤ۔اگر ہم تبلیغ نہیں کرتے تو پھر اس دنیا کا فائدہ ہی کیا ہے۔پھر خدا نے کیوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ؟ کیوں قرآن مجید نازل کیا ؟ اور کیوں لوگوں تک اسلام کی تعلیم پہنچانا ہم پر فرض قرار دیا؟ پھر تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت صرف آدم کی سی رہ جاتی ہے جو چند آدمیوں کو ابتدائی انسانی حقوق کی تعلیم دینے کے لیے آیا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا ہے کہ تیری حکومت ساری دنیا پر ہے اور تجھے تمام دنیا کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔یہ حقیقت تو اسی طرح واضح ہو سکتی ہے کہ دنیا کا ایک بڑا طبقہ آپ کو ماننے والا ہو۔اور یا پھر دوسرے لوگوں کو خدا تعالیٰ ختم کر دے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وعدے خدا تعالیٰ نے کیسے ہیں اُن کی عظمت اور اہمیت اسی طرح ظاہر ہو سکتی ہے کہ ہم ایک وسیع دنیا کو احمدی بنا لیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو وعدے کیے گئے ہیں اُن کی عظمت اور اہمیت بھی اسی طرح ظاہر ہوسکتی ہے کہ ہم ایک وسیع دنیا کو احمدی بنا لیں۔اگر اس کے علاوہ ہم کوئی اور ذریعہ اختیار کرتے ہیں تو اُس کا سوائے اِس کے کوئی اور مفہوم نہیں ہو سکتا کہ یا تو اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی ایسا ایٹم بم دے دے جس سے ڈر کر ساری دنیا چوہڑوں اور چماروں کی طرح ہمارے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو جائے اور یا پھر ساری دنیا مر جائے صرف احمدی ہی احمدی باقی رہ جائیں اور ہم رات اور دن اپنے گھروں کے دروازے بند کر کے اس ڈر سے اندر بیٹھے رہیں کہ شیر اور چیتے ہم پر حملہ نہ کر دیں اور ہمیں چیر پھاڑ کر نہ کھا جائیں۔یہ دونوں دنیا ئیں ایسی ہیں جنہیں انسانی عقل نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔صرف اور صرف ایک ہی دنیا ہے جس کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے ، قرآن کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے ، اسلام کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے ، احمدیت کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے۔اور دنیا کی اکثریت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہو جائے۔اور یہ سلسلہ اس طرح بڑھتا چلا جائے یہاں تک کہ دنیا کے گوشے گوشے اور