خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 180

1948ء 180 (18) خطبات محمود ہر احمدی کے امتحان کا یہ موقع ہے کہ اگر وہ زیادہ قربانی نہیں کر سکتا تو وصیت والی قربانی کر دے فرموده 4 جون 1948ء بمقام رتن باغ لاہور ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں آج خطبہ جمعہ مختصر ہی پڑھنا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے صبح سے سر درد کا دورہ ہے اور اس آندھی نے اس کی وجہ بھی بنادی ہے۔ میرے جسم میں کوئی ایسی مرض ہے کہ آندھی آنے سے مجھے سردرد شروع ہو جاتا ہے بلکہ کبھی سردرد پہلے شروع ہو جاتا ہے اور پھر آندھی آجاتی ہے۔ شاید بجلی کی رو کا کوئی اثر ہو۔ میں نے گزشتہ ہفتہ جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ہماری ذمہ داریاں پہلے سے میں نے گزشتہ ہفتہ جماعت کو اس امرکی طرف توجہ دلائی بہت زیادہ ہوگئی ہیں اور ہماری قربانیاں بھی پہلے سے بہت زیادہ ہونی چاہیں ۔ میں نے جماعت کو بتایا تھا کہ قادیان سے آنے کے بعد جو تحریک میں نے کی تھی کہ جماعت کے لوگ پچیس سے پچاس فیصدی تک اپنی آمدنیاں دیں یہ تحریک آہستہ آہستہ کچھ بڑھی تو سہی مگر اس نے اتنی ترقی نہیں کی کہ یہ جماعتی تحریک کہلا سکے۔ اور جب تک کوئی تحریک جماعتی تحریک نہ بنے اُس وقت تک جماعت کو اس کے