خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 428

$1948 428 خطبات محمود کے قربانی کے لیے پیش کریں گے۔پس گومیں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ سستی اور غفلت ناواقفیت کی وجہ سے ہے لیکن میرے لیے یہ مشکل امر ہے کہ جماعت کو اس کام کی طرف بار بار توجہ دلاؤں کیونکہ بار بار توجہ دلانے کے یہ معنے ہیں کہ جماعت کو مرکز سے کوئی محبت نہیں۔امام اسے بار بار توجہ دلا رہا ہے لیکن وہ پھر بھی توجہ نہیں کرتی اور یہ بڑی شرم کی بات ہے۔میری مثال تو ایسی ہے کہ بولوں تو ماں ماری جائے اور نہ بولوں تو باپ گتا کھائے۔اگر میں نہیں بولتا تو مادی نظریہ کے مطابق قادیان کی تباہی میرے سامنے آجاتی ہے۔خدا تعالیٰ تو اُسے ضرور بچائے گا لیکن ظاہری حالت سے یہی نظر آتا ہے۔اور اگر بولتا ہوں تو دشمن کی نظروں میں جماعت ذلیل ہو جاتی ہے۔ایسے اہم کام میں بار بار تحریک کرنے اور توجہ دلانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ ایسا کرنا جماعت کی ذلت کا موجب ہے۔میں نے جو کچھ کہا ہے بڑی مشکل سے شرمندہ ہوتے ہوئے اور ندامت کو محسوس کرتے ہوئے کہا ہے اور ڈرتے وئے کہا ہے کہ اتنی سی بات سے بھی جو میں نے کہی ہے دشمن فائدہ نہ اٹھا لے۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت اس چیز کو محسوس کرتے ہوئے اپنے فرائض کی ادائیگی کی طرف پوری توجہ دے گی۔اگر دوست پچھلے وعدے پورے کر دیں تو پھر دو سال تک کسی نئی تحریک کی ضرورت نہیں پڑے گی۔دوسرے یا تیسرے سال اگر ضرورت پیش آئی تو نئی تحریک کر دی جائے گی۔ہو میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر ساری جماعت ساڑھے سولہ فیصدی سے تینتیس فیصدی چندہ دینے لگ جائے تو اس سے اتنی آمد ہو سکتی ہے کہ بغیر نئی تحریک کے یہ کام چل سکتا ہے۔مگر افسوس ہے کہ جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی۔اگر اس طرف جماعت کی پوری توجہ ہوگئی تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی آمد ہو جائے گی جس سے یہ کام سہولت سے آپ ہی آپ ہوتے چلے جائیں گے۔لیکن جو وعدے ے پہلے ہو چکے ہیں اُن پر اس کا کوئی اثر نہیں ہونا چاہیے وہ بہر حال پورے کرنے پڑیں گے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ابھی چھ سات لاکھ کے وعدے باقی ہیں۔اگر یہ پورے ہو جائیں تو اس رقم سے دو سال کام چل سکتا ہے اور دوسال کے عرصہ میں پتہ نہیں کیا کیا تغیرات ہو جائیں۔آئندہ اس کی شاید ضرورت بھی نہ پڑے۔اگر ضرورت پڑی تو نئے سرے سے ایک مہینہ کی آمد کے 1/4 یا 1/8 حصہ کی تحریک کر دی جائے گی جس سے خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی آمد ہو جائے گی کہ اس سے یہ کام چلتا چلا جائے گا۔یا پھر ایک خاص مقدار چندے کی مقرر کر دی جائے گی اور وہ عام چندوں کے ساتھ