خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 427

$1948 427 خطبات محمود اور جب تک ہم اسے آزادی سے مرکز بنا کر ساری دنیا میں تبلیغ نہیں کرتے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس غلط نہیں کی وجہ سے جماعت کے دوستوں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔حالانکہ جب میں تحریک جدید کی تحریک کرتا ہوں تو لوگ چندے دیتے ہیں۔اگر حفاظت مرکز کا چندہ نہ دینا ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ہے تو کی وہ تحریک جدید میں چندہ کیوں دیتے ہیں۔پھر تحریک ستمبر میں جماعت کے سینکڑوں افراد نے اپنے اوپر آمد کا ساڑھے سولہ فیصدی ، پچیس فیصدی، تینتیس فیصدی بلکہ پچاس فیصدی بھی واجب کر لیا ہے۔اگر جماعت ایمان میں کمزور ہوتی تو وہ اس میں حصہ کیوں لیتی۔پھر جماعت کے ہزاروں ہزار افراد ایسے ہیں جنہوں نے وصیت کی ہوئی ہے اور وہ اپنی آمد کا دسواں نواں ، ساتواں حصہ دیتے ہیں۔اگر ان میں ایمان نہ ہوتا تو وہ ایسا کیوں کرتے۔پھر بیشتر حصہ جماعت کا جسے ساٹھ ستر فیصدی کہنا چاہیے ایسا ہے جو ایک آنہ فی روپیہ کی شرح سے چندہ دیتا ہے۔ایک آنہ فی روپیہ کے معنے ہیں سوا چھ فیصدی۔اگر ان میں ایمان نہ ہوتا تو وہ سوا چھ فیصدی کی شرح سے چندہ کیوں دیتے۔پس یہ تو یقینی اور قطعی بات ہے کہ یہاں ایمان کا سوال نہیں۔اگر ایمان کا سوال ہوتا تو لوگ دوسرے چندے کیوں دیتے۔لوگ ایک آنہ دو نہ تین آنہ اور بعض تو آٹھ آنے فی روپیہ جو پچاس فیصدی ہوتا ہے کیوں دیتے۔یہ بتاتا ہے کہ لوگوں میں ایمان موجود ہے۔پس حفاظت مرکز کے جو وعدے پورے نہیں کیے گئے اُس کی وجہ یہ ہے کہ دوستوں کو یہ وہم ہے کہ اب اس کی ضرورت نہیں۔حالانکہ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم ایسے مقام پر ہیں کہ اگر ہم سستی کریں تو ہماری ناک کٹ جائے گی اور ہم دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔آخر ہم یہ امید تو نہیں کر سکتے کہ ہم سامان بھی مہیا نہ کریں اور کام بھی آپ ہی آپ ہوتا جائے۔قادیان میں جب گولیاں چل رہی تھیں اور اردگرد کے علاقے کے بھی ساٹھ ہزار آدمی وہاں آگئے تھے۔گورنمنٹ نے تو انہیں ایک دن بھی کھانا نہیں کھلایا تھا۔انہیں بھی ہم نے ہی کھانا کھلایا تھا۔اب ان چار سو آدمیوں کو کیا وہ کھانا کھلائے گی ؟ ہندوستان کے بعض لوگوں کو قادیان کا اجاڑ نا پسند ہے آباد رکھنا پسند نہیں۔انہیں تو وہی کھانا کھلائیں گے جو اپنے مرکز سے محبت رکھتے ہیں اور جن کا یہ ایمان ہے کہ چاہے قادیان آج بہت سے احمدیوں سے کٹ گیا ہے لیکن ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب دنیا کی اصلاح اور انصاف کے کام کا مرکز قادیان ہوگا۔وہی لوگ ہیں جو اس کے لیے ہر قسم کی قربانی پیش کریں گے، وہی ہیں جو اس کے لیے اپنے اموال کو قربان کریں گے، وہی ہیں جو اپنی جانوں کو وقف کر