خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 417

$1948 417 خطبات محمود آپ فرمانے لگے اماں! آپ کے پانچ بیٹے ہیں اگر میں چلا جاؤں تو آپ کے پاس چار بیٹے تو ہوں گے۔اگر آپ اپنے ایک بیٹے کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کے لیے پیش کر دیں تو اس میں آپ کا کیا حرج ہے؟ اماں نے مجھے خفا ہو کر ڈانٹا اور کہا آئندہ ایسی بات نہ کرنا۔آپ فرمایا کرتے تھے میں نے اُس وقت سمجھ لیا کہ اب اِس بات کی وجہ سے اماں کو ضرور سزا ملے گی اور یہ بیٹے جن کے ہوتے ہوئے وہ اپنے ایک بیٹے کو خدا تعالیٰ کے راستہ میں قربان نہیں کر سکیں یہ نہیں رہیں گے۔چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے ایک ایک کر کے مرنا شروع کیا۔میں نے پھر یاد کرایا کہ اماں ! اگر آپ ایک بیٹے کو خدا تعالیٰ کے راستہ میں قربانی کے لیے پیش کر دیتیں تو آپ کے یہ چار بیٹے بچ جاتے۔یہ چاروں اسی لیے مرے ہیں کہ آپ نے خدا تعالیٰ کے راستہ میں قربانی کے لیے ایک بچہ نہیں دیا۔اس پر آپ نے پھر خفگی کا اظہار کیا۔آپ فرماتے تھے میں نے کہا اماں! میں اس قربانی کے لیے تیار تھا اس لیے مجھ پر تو کوئی گرفت نہیں ہوگی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی وفات کے وقت میں بھی آپ کے پاس نہیں ہوں گا۔چنانچہ آپ فرماتے تھے کہ اماں جب فوت ہوئیں تو میں کہیں باہر تھا۔یہ ماں کی محبت ہے جس کا اس دنیا میں نظارہ نظر آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے موقع پر ایک عورت کو دیکھا جو میدانِ جنگ میں دیوانہ وار پھر رہی تھی۔جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن ختم ہونے کے قریب تھی۔لوگ پکڑے جار ہے تھے، جوان زخمی ہو رہے تھے مگر وہ عورت اس طرف دھیان دیئے بغیر میدانِ جنگ میں دوڑی پھر رہی تھی۔آخر دوڑتے دوڑتے اُسے ایک بچہ نظر آیا۔اُس کا بچہ جنگ کے دوران میں کہیں گم ہو گیا تھا جو اُ سے مل گیا۔اُس نے اُسے اٹھا لیا۔خون ریزی ہو رہی تھی مگر اس نے پاس ہی ایک پتھر پر بیٹھ کر اور اپنا پستان نکال کر اسے دودھ پلانا شروع کر دیا۔اُس کے چہرے سے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی کو دکھ ہی کوئی نہیں۔جوان مر رہے تھے، اس کی قوم کے پہلوان زخمی ہورہے تھے، اس کے ملک کے بہادر قید ہورہے تھے لیکن وہ عورت اپنے گم شدہ بچے کے مل جانے پر محسوس کرتی تھی جیسے کچھ بھی نہیں ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا اس عورت کو دیکھو! وہ میدان جنگ میں کس طرح گھبرائی ہوئی پھر رہی تھی۔اس کا بچہ گم ہو گیا تھا جس کو وہ تلاش کر رہی تھی۔جب اسے مل گیا تو وہ کس طرح اطمینان سے بیٹھ گئی اور اسے دودھ پلانے لگ گئی۔(اسے کٹتے ہوئے سر اور بندھی ہوئی رسیاں