خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 418

$1948 418 خطبات محمود نظر نہیں آ رہی تھیں۔اس لیے کہ اسے اپنا کھویا ہوا بچہ مل گیا ) پھر آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ اپنے بندے سے اس سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے جتنا یہ ماں اپنے بچہ سے پیار کرتی ہے۔1 جب کوئی نادم بندہ اس کے پاس آتا ہے تو وہ اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔اس لیے کہ اس کا بھولا ہوا بندہ واپس آ گیا۔مگر ما ئیں تو کئی ہیں جو سب کو نظر آجاتی ہیں۔خدا تعالیٰ ایک ہے اور وہ ہر ایک کو نظر نہیں آتا کیونکہ اس کے دیکھنے کے لیے وہ آنکھیں نہیں چاہیں جو جسم میں لگی ہوئی ہیں۔اُس کے دیکھنے کے لیے وہ آنکھیں چاہیں جو روحانی ہوتی ہیں۔اور وہ آنکھیں ہر ایک کے پاس نہیں۔یہ نہیں کہ وہ کسی کومل ہی نہیں سکتیں۔۔وہ ہر ایک کومل سکتی ہیں مگر ہر ایک ان کی تلاش میں نہیں۔ہر ایک انہیں لینا نہیں چاہتا۔پس خدا تعالیٰ کی طرف سے تو ہر ایک کی ہدایت کے لیے دروازہ کھلا ہے اور وہ یقیناً اپنے بندے کے روحانی علاج کے لیے تیار ہے مگر اس آدمی کو کیا کریں جو بیمار ہوتا ہے اور اس بیماری کی حالت کو اپنی اصلی اور طبعی حالت سمجھ لیتا ہے۔وہ دس سال سے بچھپیں یا تمیں فیصدی چندہ دے رہا ہوتا ہے لیکن کسی ستی غفلت یا ٹھوکر کی وجہ سے اُس کا جوش کم ہو جاتا ہے اور وہ پچھیں یا تمہیں فیصدی کی بجائے دس فیصدی دینے لگ جاتا ہے۔اس پر بجائے اس کے کہ وہ سمجھے کہ اسے حرارت ہو گئی ہے جو دور ہونی چاہیے، بجائے اس کے کہ وہ سمجھے کہ اُسے بیماری ہو رہی ہے جس کا اُسے علاج کرنا چاہیے۔وہ کہتا ہے اب میری طبیعت درست ہے اب میری صحت بہت اچھی ہے۔وہ کتنا بیوقوف تھا کہ پہلے زیادہ قربانی کرتا رہا اور یہ چیز اسے نیکیوں سے محروم کرتی چلی جاتی ہے، اسے نیکی سے دور پھینکتی چلی جاتی ہے۔اگر اسے اس چیز کا احساس ہوتا تو وہ رات کو تہجد کے وقت اٹھ کر سجدہ میں گر جاتا اور کہتا اے میرے ربّ! اے میرے رب ! ایمان میرے ہاتھ سے جا رہا ہے، میری قربانی کم ہو رہی ہے، میری روحانی صحت بگڑ رہی ہے، میں موت کے قریب جا رہا ہوں تو مجھے نجات دے کیونکہ تیرے سوا نجات دینے والا اور کوئی نہیں۔اگر وہ ایسا کرتا تو اس کی جس مُردہ نہ ہوتی۔اُس کی جان نکلتی نہ چلی جاتی۔اللہ تعالیٰ کا فضل اُس کا ہاتھ پکڑ لیتا، وہ اُس کی مُردنی کو دور کر دیتا، اس کے اندر ایک نئی طاقت پیدا کر دی جاتی اور وہ سمجھنے لگ جاتا۔اُسے یہ محسوس ہو جاتا کہ وہ زور کے ساتھ بدی کا مقابلہ کر رہا ہے۔جب وہ ایک طرف سے زور لگا تا اور دوسری طرف سے خدا تعالیٰ زور لگا تا تو وہ گڑھے میں سے نکل آتا۔لیکن جب کسی کو خود ہی اس طرف توجہ نہ ہو اور جب آپ ہی انسان خدا تعالیٰ کو