خطبات محمود (جلد 29) — Page 416
$1948 416 خطبات محمود بہن جدا ہوتا ہے تو ان کی ماں کی کیا حالت ہوتی ہے حالانکہ وہ اس کے پاس ہوتے ہیں۔مثلاً تم سات بھائی ہو تو تم میں سے چھ بھائی اس کے گھٹنوں کے پاس بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اُسے ایک بچے کی یادتر پار ہی ہوتی ہے۔اس پر تم اپنا قیاس کر سکتے ہو کہ تمہاری جدائی پر تمہاری ماں کا کیا حال ہوتا ہو گا۔تم کتنی دفعہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کہیں سیر کرنے گئے ہو گے۔تمہاری ماں تمہاری جدائی کی وجہ سے تمہارے پیچھے تڑپ رہی ہوگی مگر تم پر اپنی ماں کے رنج کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔پس میں نے وہ مثال دی ہے جو ہر ایک کے ساتھ گزرتی ہے۔تم میں سے ایک بھی ایسا شخص نہیں جس نے یہ بات نہ دیکھی ہو۔اگر اس نے اپنی ماں کو غم کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو اس نے اپنی بیوی کو اپنی اولاد کی جدائی پر غم کرتے دیکھا ہوگا۔اگر اس نے اپنی ماں اور بیوی کو غم کرتے نہیں دیکھا تو اس نے اپنی بچی ہممانی، خالہ یا دادی کو غم کرتے دیکھا ہو گا۔تم میں سے کوئی بھی تو ایسا نہیں جس کی ماں، بیوی، خالہ، ممانی، چی یا دادی وغیرہ نہ ہو۔بیسیوں ایسے رشتے ہیں جن کا اس سے کوئی پردہ نہیں ہوتا اور جن سے وہ ملتا جلتا رہتا ہے۔ایک کو اس نے نہیں دیکھا ہوگا تو دوسرے کو دیکھا ہوگا اور اگر دوسرے کو نہیں دیکھا ہوگا تو تیسرے کودیکھا ہوگا۔غرض تم میں سے کوئی بھی تو ایسا نہیں جس نے یہ نظارہ نہ دیکھا ہو لیکن فرق کیا ہے؟ فرق یہی ہے کہ تم اس کی نظارہ کو دنیا میں دیکھ لیتے ہو لیکن خدا تعالیٰ کو جو تم سے محبت ہے وہ تم کم دیکھتے ہو یا بہت کم لوگ اسے دیکھتے ہیں۔اس لیے نہیں کہ بندے اسے دیکھ نہیں سکتے وہ یقیناً اسے دیکھ سکتے ہیں مگر وہ ایسی آنکھیں حاصل نہیں کرتے جو اس کے دیکھنے کے لیے چاہیں۔ان کے دل میں وہ تڑپ نہیں جو اس کے لیے دیکھنے کا موجب بن جاتی ہے۔پس ماں کی محبت کی مثال میں نے اس لیے دی ہے کہ تم سب اسے محسوس کر سکتے ہو۔ماں کی محبت کے متعلق مجھے حضرت خلیفۃالمسیح الاول کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب روس اور ٹرکی میں لڑائی ہوئی یہ 1870ء کی بات ہے۔مگر ایک لڑائی 1850ء میں بھی ہوئی تھی۔شاید یہ واقعہ اس وقت کا ہو۔آپ کی عمر کے لحاظ سے غالبا یہ اسی لڑائی کا واقعہ ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے اُس وقت میں نے اپنی اماں سے کہا اماں! یہ موقع اسلام کے لیے بہت نازک ہے آپ مجھے اجازت دیں کہ میں جاؤں اور مسلمانوں کی طرف سے اس لڑائی میں شامل ہو جاؤں۔اماں نے غصے کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا بھلا کوئی ماں اپنے بیٹے کو ایسی اجازت دے سکتی ہے؟