خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 449

خطبات محمود 449 سال 1947ء گزشتہ جنگ کے موقع پر انہوں نے اپنی ساری جائیداد ملک کو دے دی تھی۔اس کے بعد ایسا چانس ہوا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر جاپہنچے۔پھر کہیں گلاسگو یو نیورسٹی (Glasgow University ) نے اُن کو ڈگریاں دے دیں۔کہیں کیمبرج یونیورسٹی نے ان کو ڈگریاں دے دیں۔کہیں آکسفورڈ یونیورسٹی نے ان کو ڈگریاں دے دیں۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ان ڈگریوں کے پاس شدہ مقام پر اُس شخص کو کھڑا کر دیا جائے جسے بعض اعزازی ڈگریاں ملی ہوئی ہیں۔غرض بیسیوں وجوہات ہوتی ہیں جو عقلی مطمح نظر کو کمزور کرنے کے لئے پیدا ہو جاتی ہیں۔عقل کہتی ہے کہ فلاں بات اس طرح ہے۔مگر دوسری باتیں عقل کے فیصلہ اور اُس کے مقام کو کمزور کرنے کا موجب ہو جاتی ہیں۔اس کے مقابلہ میں جذبات جو کچھ فیصلہ کرتے ہیں سوائے اس کے کہ جہالت سے کسی وقت اصل مقصود ہی انسانی نظر سے اوجھل ہو جائے کوئی چیز اس میں ہے روک نہیں بن سکتی۔جذبات کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ماں کو اپنے بچہ سے محبت ہوتی ہے۔ماں اپنے بچہ کی جتنی خدمت کرتی ہے محض محبت اور پیار سے کرتی ہے۔عقل سے نہیں کرتی۔بعض دفعہ ایک عورت کی بڑی عمر ہو جاتی ہے۔مگر پھر بھی اولاد کی خواہش اُس کے دل میں موجزن رہتی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اُس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اُس کی خدمت کرے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا ای کرتے تھے کہ ٹوانہ خاندان میں سے ( جن میں سے سر خضر حیات خاں ہیں) ایک رئیس تھے جن کی بڑی عمر ہوگئی مگر اُن کے ہاں اولا د نہ ہوئی۔ستر سال کے قریب خاوند کی عمر ہو گئی اور ساٹھ سال کے قریب بیوی کی عمر ہو گئی۔آخر انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم حج کے لئے جاتے ہیں، وہاں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں بچہ دے دے گا۔اسی احساس کے ماتحت وہ حج کے لئے چل پڑے۔کوئی اُن سے پوچھتا کہ آپ کہاں چلے ہیں؟ تو وہ یہی جواب دیتے کہ بچہ لینے چلے ہیں۔چونکہ اعتقاد پختہ تھا اور انہوں نے دعائیں بھی اور گریہ وزاری بھی ضرور کی ہو گی۔اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل نازل ہوا کہ اُن کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا۔حالانکہ اُس وقت بیوی کی عمر ساٹھ سال تھی۔غرض واپس آئے تو بچہ لے کر آئے اور ہر ایک سے یہی کہتے کہ لوحج کے ذریعہ ہمیں بچہ مل گیا۔اب دیکھو یہ ایک فطرت تھی۔اگر اُس عورت سے کوئی کہتا کہ تو ساٹھ سال کی ہو چکی ہے اور تیرا خاوند ستر سال کی عمر کو پہنچ چکا ہے ایسی حالت میں تیرے ہاں بچہ کس طرح پیدا ہوسکتا ہے