خطبات محمود (جلد 28) — Page 389
خطبات محمود 389 سال 1947ء کر جاتا ہے۔یا ان چھوٹے چھوٹے بیجوں کی سی ہوتی ہے جو پھل کے ابتدا میں ہی ضائع ہو جاتے ہیں۔یا ان پھلوں کی سی ہوتی ہے جو پھل بننے سے پہلے کڑوے فضلوں کی طرح ہوتے ہیں۔یا زیادہ سے زیادہ ان کی حیثیت اُس کیری یا مالٹا یا سنگترے کی سی ہوتی ہے جو اصل مزہ کے حاصل ہونے سے پہلے ہی گر جاتے ہیں اور لوگ ان کی چٹنیاں بنا لیتے ہیں مگر وہ اس غرض کو حاصل نہیں کر سکتے جس کے لئے آم یا مالٹا یا سنگترہ تیار ہوتا ہے۔اگر یہ لوگ آخر تک سلامت رہیں تب بھی یہ دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔میں نے ابھی کہا ہے کہ سارا مور رڈی اور اچھا اگر درخت پر رہے تو درخت بیچ نہیں سکتا۔اس کی مجھے ایک اور مثال بھی یاد آ گئی۔میں نے باغ میں پھرتے ہوئے ایک دفعہ آڑوکا ایک درخت دیکھا جس میں پھل بہت زیادہ تھا۔میں نے مالی سے کہا قانونِ قدرت یہ ہے کہ اگر پھل زیادہ ہو گا تو درخت ٹوٹ جائے گا اس لئے اس درخت کا کچھ پھل تم کاٹ ڈالو تا کہ درخت محفوظ رہے۔مالی کہنے لگا دیکھئے اس کو کتنا پھل لگا ہوا ہے اس پھل کو ضائع کرنا تو مناسب معلوم نہیں ہوتا۔میں نے کہا یہی تو مضر ہے تم اس کا پھل کا ٹو اور صرف اتنا ہی پھل رہنے دو جس کو درخت سہار سکتا ہے۔اس نے کہا نہیں آپ اس کی حفاظت مجھ پر رہنے دیں اور مجھے اجازت دیں کہ اس کا پھل بدستور درخت پر ہی رہنے دیا جائے۔میں خاموش ہو گیا۔جب پھل مکمل ہوا تو وہ درخت بیچ میں سے چر کر ادھر اُدھر جا پڑا۔یہی حال الہی جماعتوں کا ہوتا ہے۔ان میں سے لوگوں کا جھڑنا بھی ضروری ہوتا ہے۔پت جھڑ کے بغیر درخت کبھی پھلتے نہیں۔مور اور ابتدائی پھلوں کے جھڑنے کے بغیر اچھے پھل پیدا نہیں ہو سکتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان آخر انسان ہوتے ہیں۔قوموں کی تربیت اور ان کی اصلاح انسانوں نے ہی کرنی ہوتی ہے۔سکولوں میں یہ قانون ہے کہ پچاس سے زیادہ لڑکے اگر کسی کلاس میں آجائیں تو دو استا در کھے جائیں۔اگر کوئی سکول پچاس سے زیادہ لڑکے کسی کلاس میں داخل کرے تو افسران بالا اس کی امداد میں رخنہ ڈالتے اور اس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یا تو نیا مدرس رکھو اور یا پھر زائد لڑکوں کو نکالو۔جماعتوں کی نگرانی بھی افراد کی نگرانی کی تھی طرح ہوتی ہے۔اگر افراد بے انتہاء بڑھتے چلے جائیں اور لائق مربی اور تربیت کرنے والے نہ