خطبات محمود (جلد 28) — Page 388
خطبات محمود 388 سال 1947ء خدا نے ان کے دلوں میں پیدا کی ہوئی ہوتی ہے پہچان لیتے ہیں اور جان لیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ خدا نے کہاں شہد رکھا ہوا ہے۔وہ آتے ہیں اور جس چیز کو انسان جیسا مکمل وجود بھی چکھ کر تھوکنے لگ جاتا ہے اُس میں سے شہد اکٹھا کرنا شروع کر دیتے ہیں، کڑوی کیریوں میں سے، میٹھے پھولوں میں سے ، اُن بد ذائقہ کلیوں میں سے جن کے چکھنے کی انسان بھی جرات نہیں کرتا جس طرح شہد کی مکھی شہد نکال کر لے جاتی ہے اُسی طرح وہ ابتدائی تعلیموں میں سے جو ابھی برے طور پر مکمل نہیں ہوئی ہوتیں اور دنیا کی نگاہ میں کڑوی اور بدمزہ اور ترش ہوتی ہیں معرفت اور یقین اور ایمان کا شہد نکال کر لے جاتے ہیں۔اور دنیا میں ایک ایسا بیج بو جاتے ہیں جو قربانی اور ایثار کا پھل پیدا کرنے والا ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے ان کا ہی نہیں بلکہ وہ جو ان کے کاموں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اُن کا بھی بھلا ہوتا چلا جاتا ہے۔پھول مرجاتے ہیں، کیریاں مر جاتی ہیں، شگوفے مرجھا جاتے ہیں، وہ مکھیاں بھی مر جاتی ہیں جو شہدا کٹھا کرتی ہیں مگر ان مکھیوں کا نکالا ہوا تی شهد مدت دراز تک دنیا کی بیماریوں کو دور کرتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ان مکھیوں کے کارنامہ کو خدا بھی اس طرح یا د کرتا ہے کہ فِيْهِ شِفَاء لِلنَّاسِ 3 یعنی لوگوں کے لئے شہد میں شفاء رکھی گئی ہے۔وہ نیک فطرت لوگ جو انبیاء کے ابتدائی زمانہ میں ان کے ساتھ آکر ملتے ہیں وہ بھی ایسے کیا ہی ہوتے ہیں۔ان کو وہاں خوبیاں نظر آتی ہیں جہاں دنیا کو عیب نظر آتے ہیں۔ان کو وہاں نیکیاں نظر آتی ہیں جہاں دنیا کو بدیاں دکھائی دیتی ہیں۔ان کو وہاں جنت نظر آتی ہے جہاں دنیا کو بھڑکتی ہوئی آگ دکھائی دیتی ہے۔مگر وہ جو پاخانہ کی مکھی کی طرح اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے ہیں۔وہ فطرتیں جو صداقت پہچانے کی بجائے یونہی کسی چیز کے پاس چلی جاتی ہیں جب وہ انبیاء کی تعلیم کے پاس آتی ہیں تو وہ کوئی چیز لے کر نہیں جاتیں۔وہ نہ خود فائدہ اٹھاتی ہیں نہ دوسروں کو فائدہ پہنچاتی ہیں ، نہ خود نفع حاصل کرتی ہیں نہ دوسروں کو نفع پہنچاتی ہیں۔وہ پیر مارتی ہیں پر ہلاتی ہیں اور تھوڑی دیر بیٹھ کر اڑ جاتی ہیں۔جیسے کبھی ممکن ہے پہلے شہد پر بیٹھے مگر پھر اس سہولت اور اسی اطمینان اور اسی آرام کے ساتھ وہ پاخانہ پر جا بیٹھتی ہے ان کے لئے یہی چیز چاہئے اور یہی ان کے مناسب حال ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے كُلُّ جَدِيدِ لَذِيذ کے مقولہ پر عمل پیرا ہونا اپنا سمح نظر قرار دیا ہوا ہوتا ہے یہ لوگ کبھی بھی انتہاء کو نہیں پہنچتے۔ان کی مثال اُس مو ر کی سی ہوتی ہے جو