خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 390

خطبات محمود 390 سال 1947ء بڑھیں تو کیا نتیجہ ہو گا ؟ یہی ہوگا کہ جن لوگوں کی تربیت نہیں ہوگی وہ خراب ہوں گے اور جو لوگ خود خراب ہوں گے۔وہ دوسروں کو بھی خراب کریں گے۔اور اس طرح وہ جماعت جو دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑی ہوئی تھی ساری کی ساری خراب ہو جائے گی۔اس لئے خدا تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کیا ہوا ہے کہ کمزور طبع لوگ اگر اپنی اصلاح نہ کریں تو اُسی طرح جس طرح آموں کی کہانی کیریاں گر جاتی ہیں، جس طرح انگور اور سنگترہ اور مالٹا اور آڑو اور آلوچہ اور دوسرے پھل مکمل کی ہونے سے پہلے کوئی ابتدائی دو چار دنوں میں کوئی دوسرے تیسرے ہفتہ میں گر جاتے ہیں اسی طرح ایسے لوگ بھی گر جاتے ہیں اور ان کا گرنا جماعت کے لئے مفید ہوتا ہے مضر نہیں ہوتا۔کیونکہ جماعتوں کی ترقی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ یا تو افراد جماعت اپنی اصلاح کر کے اپنے آپ کو استاد بنالیں یا اتنے استاد ہوں جو اُن کی نگرانی کر سکیں تبھی جماعت درست رہ سکتی ہے ور نہ نہیں۔اگر جماعت میں اتنی بیداری ہو کہ اُس کا ہر فرد استاد بن جائے تو پھر کسی خطرہ کی پر واہ نہیں ہو سکتی۔مگر یہ فضل دنیا میں صرف ایک ہی ہستی پر نازل ہوا ہے اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ وجود ہیں جو نہایت دلیری ، نہایت صداقت ، نہایت یقین، اور نہایت وثوق کے ساتھ فرماتے ہیں کہ اَصْحَابِيْ كَالنُّجُوْمِ بِاتِهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اِهْتَدَيْتُمْ 4۔میرے سب صحابہ ستاروں کی طرح ہیں۔جس طرح ہر ستارہ سے تم جہت کا پتہ لگا سکتے ہو، جس طرح ستاروں سے تم راستے معلوم کرتے اور روشنی حاصل کرتے ہو اسی طرح میرے تمام صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم ابوبکر کے پیچھے چلو ، میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم عمر کے پیچھے چلو ، میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم عثمان کے پیچھے چلو ، میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم علی کے پیچھے چلو ، میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم طلحہ کے پیچھے چلو ، میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم زبیر کے پیچھے چلو تم میرے صحابہ میں سے ایک چھوٹے سے چھوٹے صحابی کے پیچھے بھی چل پڑو بِاتِهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اِهْتَدَيْتُمْ تم جس کے پیچھے بھی چلو گے آخر خدا تک پہنچ جاؤ گے۔یہ وہ دعوی ہے جو دنیا میں ایک ہی شخص نے کیا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے۔یہ وہ انعام ہے جو دنیا میں ایک ہی جماعت کو ملا ہے جو صحابہ کی جماعت ہے۔رستہ سب کے لئے کھلا تھا۔موسی" کی قوم کو خدا تعالیٰ نے اس انعام سے محروم نہیں کیا تھا۔عیسی کی قوم کو خدا تعالیٰ نے اس