خطبات محمود (جلد 28) — Page 357
خطبات محمود 357 سال 1947ء۔أو لَكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمُ أَضَلُّ 3 - وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر۔ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے کامل انسانوں کے پاس آتے ہیں تو ان کی ایسی کا یا پلٹ جاتی ہے کہ وہ انسانوں کے لئے بھی قابلِ رشک بن جاتے ہیں۔پہلے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہوتے ہیں اور پھر وہ انسانوں کے لئے بھی قابلِ رشک ہو جاتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسان میں ساری صفات رکھی ہیں۔یہ انسان کا اپنا قصور ہوتا ہے کہ وہ ان صفات سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔اگر فائدہ اٹھائے تو یقیناً وہ ترقی کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ جائے کہ فرشتے بھی اس پر رشک کرنے لگ جائیں اور وہ اللہ تعالیٰ کا ایسا محبوب بن جائے کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں اس کے مقابلہ میں دنیا کی کسی چیز کی پروا نہ کریں۔مگر ضرورت ہے قربانی کی، ضرورت ہے محنت کی ضرورت ہے اخلاص اور محبت کی۔بہت لوگ دنیا میں آتے ہیں اور اپنی عمریں ضائع کر کے چلے جاتے ہیں۔نہ وہ صیح محنت کرتے ہیں۔نہ صحیح جد و جہد سے کام لیتے ہیں ، نہ اپنے اوقات کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی عمر سے صحیح فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔چنانچہ دیکھ لو۔بہت لوگ کام تو کرتے ہیں مگر دن رات میں تین چار گھنٹے سے زیادہ نہیں کرتے۔ان کا کچھ وقت سونے میں گزر جاتا ہے، کچھ کھانے پینے میں گزر جاتا ہے، کچھ کپڑے بدلنے میں گزر جاتا ہے۔کچھ قیلولہ کرنے میں گزر جاتا ہے، کچھ پاخانہ پیشاب میں گزر جاتا ہے، کچھ ورزش میں گزر جاتا ہے، کچھ دوستوں کے ساتھ گپیں ہانکنے میں گزر جاتا ہے۔اور اصل وقت جو وہ کام پر صرف کرتے ہیں وہ دو تین گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتا۔دفاتر میں عموماً پانچ گھنٹے کام کیا جاتا ہے۔مگر ان پانچ گھنٹوں میں سے بھی ملازم پیشہ لوگ اڑھائی گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں۔دفتر جائیں گے تو بجائے کام کرنے کے کبھی کا غذ اٹھا اٹھا کر پھاڑنے لگ جائیں گے۔کبھی میز صاف کرنے لگ جائیں گے۔کبھی سیاہی کو غور سے دیکھنے لگ جائیں گے۔کبھی گئیں ہانکنے لگ جائیں گے۔اس طرح بہت سے لوگ پانچ گھنٹوں میں سے بھی نصف وقت ضائع کر دیتے ہیں۔اسی لئے اُن کا ذہن ترقی نہیں کرتا اور نہ وہ قوم کے لئے کارآمد وجود ثابت ہوتے ہیں۔کارآمد لوگ زیادہ سے زیادہ کام کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ وقت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔جس کے نتیجہ میں اُن کا دماغ ہر وقت ترقی کرتا رہتا ہے اور وہ قوم کے لئے اعلیٰ درجہ کے خدمت گزار