خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 356

خطبات محمود 356 سال 1947ء خصوصاً ایک مسلمان کے اندر تو یہ قابلیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔کیونکہ ایک طرف وہ بنی نوع انسان سے نہایت اعلیٰ درجہ کے تعلقات رکھتا ہے تو دوسری طرف خدا تعالیٰ سے اس کے نہایت وسیع تعلقات ہوتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی محبت اور اس سے وابستگی اس کے اندر انتہائی کمال پر پائی جاتی ہے۔اس کی راتیں اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی محبت میں کٹ جاتی ہیں اور اس کے دن می اپنے بھائیوں کی خیر خواہی اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے میں بسر ہوتے ہیں۔کہتے ہیں کسی تھی صوفی سے کسی نے پوچھا کہ کون آدمی سب سے بہتر ہوتا ہے؟ اُس نے کہا بہتر آدمی وہ ہے جو دست در کار و دل بایار کا مصداق ہو۔وہ نکما بیٹھنے والا نہ ہو، کام کرنے والا ہو، محنتی اور جفاکش ہو۔لیکن باوجود اس انہماک کے اور باوجود اس دنیا میں ایسے رنگ میں مشغول رہنے کے کہ لوگ سمجھتے ہوں یہ ایک لوہار ہے جو لوہارے کے کام میں مصروف ہے۔یا ایک سنار ہے جو زرگری کے کام میں مصروف ہے۔یا ایک معمار ہے جو معماری کے کام میں مشغول ہے۔یا ایک ڈاکٹر ہے جو ڈاکٹری کے کام میں مشغول ہے۔اس کے دل کی آنکھیں آسمان پر اپنے محبوب کی طرف ہوتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی یاد کسی لمحہ بھی اس کے دل سے محو نہیں ہوتی۔یہ وہی أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ کا نمونہ ہے کہ اس کی جڑیں ایک طرف زمین میں گہری نی ، وه چلی جاتی ہیں اور دوسری طرف اس کا دل ہر وقت آسمان پر اپنے محبوب کے پاس ہوتا ہے۔حیران بھی ہے یعنی وہ دوسروں کے ساتھ مل کر اپنی نسلیں پیدا کرتا اور بڑھاتا ہے۔بلکہ یہ صفت اس حد تک اس کے اندر پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے افکار اور خیالات بھی دوسروں تک پہنچاتا اور ان کو اپنے افکار اور خیالات کا قائل بنالیتا ہے۔اس طرح وہ روحانی نسل کے بڑھانے میں ایک ممتاز اور یگانہ حیثیت رکھتا ہے۔جسمانی نسل کے بڑھانے میں تو ایک کتا اور بلا اور لومڑ بھی انسان کے شریک ہیں۔مگر روحانی نسل کے بڑھانے میں انسان کا کوئی شریک نہیں۔و درندہ صفت انسانوں کو لیتا اور انہیں بڑے بڑے اعلیٰ درجہ کے کمالات تک پہنچا دیتا ہے۔وہ کلب صفت انسانوں کو لیتا اور ان کو ترقی دیتے دیتے نیکی اور پاکیزگی کے بلند ترین مقام تک نین پہنچا دیتا ہے۔غرض درندے، چرندے، حیوانات اور بہائم ایک کامل انسان کے پاس آ کر اپنی شکل بالکل تبدیل کر لیتے ہیں۔یہاں تک کہ وہی لوگ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا۔وہ ہے