خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 358

خطبات محمود 358 سال 1947ء ثابت ہوتے ہیں۔ایسے لوگ دنیا کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے۔کیونکہ دنیا اُن پر حکم نہیں چلاتی بلکہ وہ دنیا پر حکم چلاتے ہیں۔اور ان میں یہ قابلیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماحول کو بدل کر رکھ دیں۔در حقیقت دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جن میں یہ قابلیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماحول کو بدل دیں۔اور یہ اعلیٰ درجہ کے لوگ ہوتے ہیں۔اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ماحول کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ایسے لوگ ادنیٰ قسم کے ہوتے ہیں۔اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان دونوں کے درمیان ہوتے ہیں۔گویا اگر غور سے کام لیا جائے تو دنیا میں تین قسم کے لوگ نظر آئیں گے۔(1) کچھ لوگ تو ماحول کے ماتحت ہوتے ہیں۔انہیں اس ماحول میں سے نکال دو تو ان کی کوئی بھی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔(2) کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہر ماحول کے مطابق ہو جاتے ہیں۔انہیں کسی ماحول میں لے جاؤ وہ اپنی پہلی حالت کو قائم کر لیتے ہیں یا اس سے بہتر حالت اختیار کر لیتے ہیں۔(3) کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ماحول کو بدل کر اسے اپنے مطابق بنا لیتے ہیں۔انہیں کہیں ڈال دو، دنیا کے کسی خطہ میں پھینک دو انہیں اس کی پروا نہیں ہوتی۔وہ ہر ماحول کو بدل کر اسے اپنے منشاء کے مطابق بنانے کی کامل استعداد اور قابلیت اپنے اندر رکھتے ہیں۔جیسے سورج نکلتا ہے تو وہ خود ہی نہیں نکلتا بلکہ دنیا کے گوشے گوشے اور درو دیوار کو منور کر دیتا ہے۔چاند نکلتا ہے تو وہ آپ ہی نہیں نکلتا بلکہ دنیا کو بھی روشن کر دیتا ہے۔ہوائیں چلتی ہیں تو وہ آپ ہی نہیں چلتیں بلکہ ساری چیزوں کو ہلانے لگ جاتی ہیں۔زلزلے آتے ہیں تو ان کے ذریعہ زمین کے اندر صرف ایک روہی پیدا نہیں ہوتی۔بلکہ عمارتیں اور مکان بھی ہلنے لگ جاتے ہیں۔غرض طاقتور چیز میں یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماحول کو بھی بدل کر رکھ دیا کرتی ہے۔درمیانی درجہ کی چیز وہ کہلاتی ہے جو ہر ماحول میں اپنی پہلی حالت کو قائم کر لیتی یا اس سے بہتر حالت اختیار کر لیتی ہے۔اور ادنیٰ درجہ کی چیز وہ ہوتی ہے جسے اُس کے ماحول سے بدل دو تو وہ سوکھ کر رہ جاتی ہے۔مگر اصل کارآمد وجود وہی لوگ ہوتے ہیں جو ہر قسم کے ماحول کو بدل کر اپنے منشاء کے مطابق ماحول بنانے کی قابلیت رکھتے ہوں۔اس سے نیچے اتر کر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں کسی