خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 417

خطبات محمود 417 سال 1947ء بھی اپنے لئے نہیں تھی بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تھی۔بعض شیعہ لوگ اس واقعہ کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ ابو بکر نعوذ باللہ بے ایمان تھا۔وہ اپنی جان دینے سے ڈر گیا۔حالانکہ تاریخوں میں صاف لکھا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یالا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا - تو حضرت ابو بکر نے کہا یا رسول اللہ ! میں اپنی جان کے لئے تو نہیں ڈرتا۔میں اگر مارا گیا تو صرف ایک آدمی مارا جائے گا۔میں تو آپ کے لئے ڈرتا ہوں۔کیونکہ اگر آپ کو نقصان پہنچا تو صداقت دنیا سے مٹ جائے گی۔یہ ایمان ہے جو انسان کو ہر مصیبت اور ہر تکلیف کی ساعت میں پر امید رکھتا ہے اور کسی لمحہ میں بھی مایوسی کو اس کے قریب پھٹکنے نہیں دیتا۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کچھ کم مصائب نہیں آئے۔آپ جنگ اُحد میں زخمی ہو کر گر گئے۔اور صحابہ نے سمجھا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔غزوہ حنین میں سارا اسلامی لشکر تر بتر ہو گیا اور صرف چند صحابہ کے ساتھ آپ میدانِ جنگ میں باقی رہ گئے۔مگر آپ کا اصل مقصد جو صداقت کو دنیا میں قائم کرنا تھا اس میں کبھی کوئی رخنہ واقع نہیں ہوا۔اور یہی غرض انبیاء کی بعثت کی ہوتی ہے۔انبیاء دنیا میں صداقت پھیلانے کے لئے آتے ہیں اور اسی مقصد کے لئے ان کی ہر کوشش صرف ہوتی ہے۔جہاں تک نبیوں کا وجود ان کی امت کے مقابلہ میں ہوتا ہے وہ بہت بڑی حیثیت رکھتے ہیں۔اتنی بڑی حیثیت کہ اگر ساری دنیا کی جانیں بھی ایک نبی کی جان می بچانے کے لئے قربان کرنی پڑیں تو وہ قربان کی جاسکتی ہیں۔مگر جہاں تک صداقت کا سوال ہے نبی بھی اسی طرح صداقت کا خادم ہوتا ہے جس طرح اس کا ایک عام پیر وصداقت کا خادم ہوتا ہے۔اگر نبی مارا جاتا ہے ، جلا وطن کر دیا جاتا ہے لیکن نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ اس کی صداقت دنیا سے مٹ جائے تو اس کا مارا جانا یا وطن سے بے وطن ہو جانا ہر گز کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔کیونکہ نبی کے مقابلہ میں صداقت حاکم ہوتی ہے اور نبی خادم جس طرح نبی کے مقابلہ میں امت خادم ہوتی ہے اور نبی حاکم۔جس طرح نبی کے مقابلہ میں اگر ساری امت بھی تباہ کر دی جائے تو کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔جیسے حضرت ابو بکر نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! اگر میں مارا گیا تو میری کیا حیثیت ہے۔صرف ایک ہی آدمی مارا جائے گا۔لیکن اگر آپ کو نقصان پہنچا تو صداقت دنیا سے مٹ جائے گی۔یہی حال نبی اور صداقت کا ہوتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا پیغام دنیا تک پہنچ جائے تو پھر بے شک نبی شہید ہو جائے اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا