خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 416

خطبات محمود 416 سال 1947ء صداقت نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے سوائے کفار کے اور کوئی مایوس نہیں ہوتا۔نفی کے بعد جب الا آتا ہے تو وہ بھی حصر کر دیتا ہے۔مثلاً جب کہا جائے کہ میرے سوا کوئی اور شخص یہ کام نہیں کر سکتا تو اس میں حصر آ جائے گا۔اور دوسرے لوگوں کے متعلق نفی ہو جائے گی کہ ان میں اس کام کو سر انجام دینے کی اہلیت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے بھی پہلے تو یہی کہا کہ حقیقت یہی ہے اور اس طرح حصر کر دیا اور پھر کہا کہ سوائے قوم کا فر کے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کوئی مایوس نہیں ہوتا۔گویا ایک حصر کی بجائے دو حصر آگئے۔ایک حصر ہی اپنے اندر بڑی تاکید رکھتا ہے۔دو حصر آجائیں تو تاکید اپنے انتہاء کو پہنچ جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام پر ایمان کے ہوتے ہوئے انسانی قلب میں مایوسی پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو حالت مثلاً غار ثور میں ہوئی اس کے بعد کون سی امید کی حالت باقی رہ جاتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کی تاریکی میں اپنے گھر کو چھوڑ کر غار ثور میں جا چھپے۔ایک ایسی غار میں جس کا منہ بہت بڑا کھلا تھا اور ہر انسان آسانی سے اس کے اندر جھانک سکتا اور گو دسکتا تھا۔صرف ایک ساتھی آپ کے ہمراہ تھا اور پھر دونوں بغیر ہتھیاروں اور بغیر کسی طاقت کے تھے۔مکہ کے مسلح لوگ آپ کے تعاقب میں غار ثور پر پہنچے اور ان میں سے بعض نے اصرار کیا کہ ہمیں جھک کر اندر بھی ایک دفعہ دیکھ لینا چاہیے تا کہ اگر وہ اندر ہوں تو ہم ان کو پکڑ سکیں۔دشمن کو اتنا قریب دیکھ کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! دشمن تو سر پر پہنچ گیا ہے۔آپ نے اُس وقت بڑے جوش سے فرمایالَا تَحْزَنُ إِنَّ اللهَ مَعَنَا 4۔ابوبکر ڈرتے کیوں ہو خدا ہمارے ساتھ ہے۔دیکھو گھبراہٹ کے لحاظ سے کتنی انتہائی چیز اُس وقت آپ کے سامنے آئی اور اس واقعہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل یا آپ کی گرفتاری میں کون سی کسر باقی رہ گئی تھی۔مگر باوجود اس کے کہ دشمن طاقتور تھا ، سپاہی اس کے ساتھ تھے، ہتھیار اس کے پاس موجود تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالکل نہتے صرف ایک ساتھی کے ساتھ غار میں بیٹھے تھے۔نہ ہتھیار آپ کے پاس تھا نہ حکومت آپ کی تائید میں تھی۔کوئی جتھا آپ کے پاس تھا۔آپ کثیر التعداد دشمن کو اپنے سامنے کھڑا دیکھنے کے باوجود فرماتے ہیں لا تَحْزَنُ إِنَّ اللهَ مَعَنَا تم کیوں یہ کہتے ہو کہ دشمن طاقتور ہے۔کیا وہ خدا سے بھی زیادہ طاقتور ہے؟ جب خدا ہمارے ساتھ ہے تو ہمارے لئے گھبراہٹ کی کون سی وجہ ہے۔حضرت ابو بکڑ کی یہ گھبراہ