خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 418

خطبات محمود 418 سال 1947ء کیونکہ وہ اسی غرض کے لئے آیا تھا کہ صداقت پھیلائے۔جب خدا دیکھے کہ صداقت پھیل چکی ہے تو اس کے بعد اگر نبی مارا بھی جائے تو کوئی حرج نہیں ہوتا۔اصل مقصد انبیاء کی بعثت کا یہی ہوتا ہے کہ وہ صداقت کو دنیا میں قائم کریں اور اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیں۔جب میں نے شروع شروع میں بیرونی ممالک میں مبلغ بھجوانے شروع کئے تو ہماری جماعت کا ایک طبقہ مجھ پر بڑے اعتراض کیا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ جب ہندوستان میں ہی ایسے علاقے موجود ہیں جن میں ہم تبلیغ کر سکتے ہیں تو بیرونی ممالک کی تبلیغ پر جماعت کا روپیہ کیوں خرچ کیا جاتا ہے۔وہ اس حکمت کو نہیں سمجھتے تھے جس کو میں سمجھتا تھا۔اور وہ خیال کرتے تھے کہ ملانوں کی طرح مسجد میں درس دیتے ہم کامیاب ہو جائیں گے۔لیکن میں جانتا تھا اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی عقل اور فہم اور فراست کے ماتحت جانتا تھا کہ ہمیں مارا بھی جائے گا ہمیں قتل بھی کیا جائے گا ہمیں ہجرتیں بھی کرنی پڑیں گی ہمیں لڑنا بھی پڑے گا۔اور میں جانتا تھا کہ ہمارے لئے انتہائی طور پر یہ ضروری امر ہے کہ ہم جلد سے جلد دنیا کے تمام ممالک میں اپنی جماعت کو پھیلا دیں تا کہ اگر ایک مقام کی آبادی خدانخواستہ ساری کی ساری مار دی جائے اور تہہ تیغ کر دی جائے تو دوسرے مقام کی احمدی آبادی احمدیت کو دنیا میں قائم رکھ سکے۔چنانچہ باوجود دوستوں کے طعن و تشنیع کی کے اور باوجود ان کے بار بار کہنے کے کہ ہندوستان میں اچھوتوں پر یہ روپیہ صرف کیا جائے بیرونی ممالک میں مشن قائم نہ کئے جائیں میں برابر غیر ممالک میں اپنے مبلغ بھجواتا رہا۔اس طرح آج سے دس سال پہلے میں نے مختلف ملکوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کے سیٹ بھجوا دیئے اور میں نے کہا دیکھو! اگر کسی وقت دشمن غالب آجائے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام کتابیں جلا دے اور تباہ کر دے تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم دنیا کے ہر ملک میں اپنے سلسلہ کا لٹریچر بھجوا دیں تا کہ اگر ایک ملک پر آفت آئے اور دشمن ہمارے لٹریچر کو تباہ کر دے تو دنیا کے اور کئی ممالک میں ہمارا لٹریچر محفوظ ہو اور ہم پھر اس کے ذریعہ سے احمدیت کو غالب کر سکیں۔لوگ میری ان حرکات کو ایک پاگل کی حرکات سے زیادہ نہیں سمجھتے تھے۔گو میرا ادب اور لحاظ کرتے ہوئے وہ یہ الفاظ استعمال کیا کرتے تھے کہ ان کو کچھ وہم سا ہو گیا تو ہے مگر آج ہم اس قسم کے حالات سے در بدر ہورہے ہیں اور آج ہر شخص سمجھ رہا ہے کہ میرا وہم ہے