خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 361

خطبات محمود 361 سال 1947ء سارے مسلمانوں پر ایک مصیبت کا دور آیا ہوا ہے اور ہم بھی اس دور میں سے گزررہے ہیں۔مگر یہ کوئی عجیب بات نہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے درخت اپنی جگہ سے اُکھیڑے جاتے اور پھر دوسری جگہ اس لئے لگائے جاتے ہیں کہ ان کا پھل پہلے سے زیادہ لذیذ اور میٹھا ہو۔اس وقت دنیا نے دیکھنا ہے کہ ہماری پہلی ترقی آیا اتفاقی تھی یا محنت اور قربانی کا نتیجہ تھی۔اگر تو وہ وی اتفاقی ترقی تھی اور ہماری محنت اور قربانی کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا تو یہ یقینی بات ہے کہ ہم دوبارہ اپنی جڑیں زمین میں قائم نہیں کر سکیں گے۔اور اگر پہلی ترقی اتفاقی نہیں تھی بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور ہماری کوششوں اور محنتوں اور قربانیوں کا نتیجہ تھی تو پھر یہ یقینی بات ہے کہ موجودہ مصیبت ہمارے قدم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔بلکہ اس کے ذریعہ سے ہماری جڑیں اور بھی پاتال میں چلی جائیں گی اور ہماری شاخیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔یہ امر ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے دو قسم کے فضل ہوا کرتے ہیں۔ایک رحمانیت والا اور ایک رحیمیت والا۔ایک فضل وہ ہوتا ہے جو بغیر انسانی کوشش اور جدوجہد کے محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے جیسے ابو جہل کیسا گندہ اور ناپاک وجود تھا۔مگر پھر بھی اسے قوم کی سرداری مل گئی۔قوم کی سرداری اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔مگر یہ نعمت ابو جہل کو کیوں ملی ؟ اس لئے نہیں کہ اس کی کوشش اور محنت کا اس میں دخل تھا۔بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کا ابو جہل سے بھی سلوک کیا اور اسے اس نعمت سے حصہ دے دیا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے بعض فضل ایسے ہوتے ہیں جو صفت رحیمیت کے ماتحت نازل ہوتے ہیں۔ان میں یہ شرط ہوتی ہے کہ انسان کوشش کرے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کی امید رکھے۔اس طرح ہماری گزشتہ ترقیات اگر ہمارے اعمال سے وابستہ تھیں اور خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت نے ہمیں ترقی عطا فرمائی تھی تو یہ لازمی بات ہے کہ جیسے اچھا درخت دوسری جگہ اور بھی میٹھا ہو جاتا ہے۔اسی طرح ہم احمدیت کا درخت ایسے طور پر لگائیں گے کہ اس کا پھل پہلے سے بھی زیادہ لذیذ اور میٹھا پیدا ہونے لگے گا۔لیکن اگر ہم میں یہ قابلیت نہ ہوگی کہ ہم نٹے ماحول میں اپنے لئے اعلیٰ مقام بنا سکیں تو جیسے کمزور پودا جب دوسری جگہ لگایا جاتا ہے تو وہ پنپ نہیں سکتا اسی طرح ہماری حالت ہوگی اور ہم بھی ترقی نہیں کر سکیں گے۔پس ہماری جماعت کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنی چاہئیں اور نئے حالات میں نئے جوش اور نئے ولولہ سے کام کرنا چاہیے۔