خطبات محمود (جلد 28) — Page 362
خطبات محمود 362 سال 1947ء دیکھو تمہارا یہ دعویٰ تھا کہ تم تمام دنیا کو فتح کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہو اور تمہارا یہ دعوی تھا کہ دنیا کی تمام قو میں احمدیت سے برکت حاصل کریں گی۔تم اس دعویٰ کو اپنے سامنے رکھو اور پھر سوچو اور غور کرو کہ تمہیں اپنے اندر کتنی بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔کتنے بڑے عزم اور کتنے بڑے حوصلہ کی ضرورت ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھبرا جانا اور عورتوں کی طرح رونے ی بیٹھ جانا یہ کسی مومن کے شایانِ شان نہیں ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت پر اس وقت ایک مصیبت آئی ہے۔لیکن یہ مصیبت ایسی نہیں جس کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں پہلے سے خبر نہ مل چکی ہو۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک رؤیا اس طرف صریح طور پر اشارہ کر رہا تھا اور گو اس رؤیا کے اور معنی ہماری جماعت پہلے کرتی رہی ہے اور وہ معنی بھی اپنی جگہ پر درست تھے مگر اس کے دوسرے معنی بھی ہو سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں میں نے رویا میں دیکھا کہ ہم ایک نیا آسمان اور نئی زمین بنا رہے ہیں۔4 ہو سکتا ہے اس رؤیا میں اسی زمانے کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہو جب قادیان کے آسمان اور زمین کو دشمن نے بدل دینا تھا اور بتایا گیا ہو کہ تم اپنے لئے ایک آسمان اور زمین بناؤ گے مگر دشمن اسے تباہ کر دے گا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ تمہیں پھر توفیق دے گا کہ تم ایک نیا آسمان اور نئی زمین بناؤ۔چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب وہی وقت آ گیا ہے جب کہ ہمیں ایک نئے آسمان اور نئی زمین کی ضرورت ہے۔لیکن فرض کرو یہ پیشگوئی اس وقت کے لئے نہیں۔تب بھی ایک بیٹا اپنے باپ کی صفات پنے اند ر ضرور رکھتا ہے، اگر ایک کتورہ اپنے باپ کی خصوصیات اپنے اندر رکھتا ہے اگر ایک بکرا اپنے باپ کی خصوصیات اپنے اندر رکھتا ہے تو کیا اشرف المخلوق انسان اور پھر ایسا انسان جو کہتا ہے کہ میں دنیا کو فتح کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں، جس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ خدا اور بندے کی صلح کے لئے مامور ہے اور جس نے اس زمانہ میں ایک نبی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا ہے۔وہ اپنے روحانی باپ کی خصوصیات اپنے اندر نہیں رکھے گا ؟ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فرماتے ہیں کہ آؤ ہم ایک نیا آسمان اور نئی زمین بنا ئیں تو مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے کیوں اس قابل نہیں ہو سکتے کہ وہ دنیا کو ایک نئی زمین اور نیا آسمان بنا کر دکھا دیں۔اور یقینا وہ ایسا کر سکتے ہیں۔بشرطیکہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کی جائے اور محنت سے کام لینے کی عادت ڈالی جائے۔