خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 360

خطبات محمود 360 سال 1947ء مٹی کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔اس لئے جو چیز نکلتی ہے وہ اصل سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔مثلاً ہو سکتا ہے کہ جو گٹھلی تم نے بوئی ہے وہ تو میٹھے آم کی ہو اور نکل آئے کھتا آم۔یا گٹھلی کھتے آم کی ہو اور نکل آئے میٹھا آم۔یا جس پھل کی تم نے گٹھلی ہوئی ہے وہ تو بہت چھوٹا سا ہومگر اس کے نتیجہ میں بڑا پھل پیدا ہو۔یا تمہارے پھل کا قد تو بہت بڑا تھا مگر زمین سے ایسا درخت پیدا ہو جس کا پھل بہت چھوٹا ہو۔لیکن اگر جگہ بدل دی جائے تو ایک خاص نسبت ایسے آموں کی ہوتی ہے جو اپنی اصل شکل پر ظاہر ہوتے ہیں۔جب تک پیوند کا طریق جاری نہیں ہوا تھا اُس وقت تک آموں کو اصل شکلوں پر لانے کے لئے یہی طریق مروج تھا کہ چھ چھ سات سات آٹھ آٹھ دس دس جگہ پودے کو بدلتے چلے جاتے تھے۔میں نے خود اس کا تجربہ کیا ہے۔مجھے ایک خاص قسم کے آم کی تلاش تھی۔مگر جس شخص کے پاس اُس آم کا درخت تھا وہ پیوند نہیں دیتا تھا۔آخر میں نے ایک دوست کو لکھا کہ مجھے فلاں قسم کا کچھ پھل بھیج دیں۔انہوں نے 12 آم بھیج دیئے۔ان میں سے کچھ تو رستہ میں ہی سڑ گئے۔صرف چھ آم سلامتی کے ساتھ پہنچے۔میں نے سندھ میں وہ لگوا دئیے اور ہدایت کی کہ پانچ پانچ چھ چھ دفعہ ہر پودے کی جگہ بدلی جائے۔اب اُس کے پودے نکلے ہیں اور دو تین نے پھل بھی دیئے ہیں۔ایک نے تو ناقص پھل دیا ہے۔مگر ایک بالکل اپنے اصلی پھل کے طور پر پھل دینے لگ گیا ہے۔اور تیسرا بہت حد تک اس کے مشابہ ہے۔ممکن ہے ایک دوسال تک اس کا پھل بھی اصل پھل کے مشابہ ہو جائے تو جگہ بدلنا درخت کے لئے نہایت ضروری چیز سمجھا گیا ہے اور اسی سے اس کی اندرونی قابلیتوں کا پتہ چلتا ہے۔فلسفہ کا مسئلہ ہے کہSURVIVAL OF THE FITTES یعنی جتنی قابلیت کسی چیز ہوگی اتنی ہی وہ محفوظ رہے گی۔مثلاً جتنا تندرست بچہ ہو گا اتنا ہی وہ بیماریوں سے محفوظ رہے گا۔اور جتنا تندرست پودا ہوگا اُتنا ہی وہ حوادث دہر کا آسانی سے مقابلہ کر سکے گا۔اس کے مقابلہ میں بیمار بچہ اور بیمار درخت و باؤں اور بیماریوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور جب بیماری کے مقابلہ کی ان میں طاقت نہیں ہوگی تو لازماًوہ مریں گے بھی زیادہ۔غرض SURVIVAL OF THE FITTES کی رو سے جو چیز جگہ بدلتی اور اپنے آپ کو قائم رکھتی ہے اُس کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ اس میں بڑھنے کی قابلیت پائی جاتی ہے۔اور اس میں ہمت اور استقلال کا بھی مادہ ہے۔اس وقت