خطبات محمود (جلد 28) — Page 350
خطبات محمود 350 سال 1947ء ہے۔کیونکہ صبح اس نے سفر پر جانا تھا۔چنانچہ اس نے لڑکے سے کہا۔ذراد یکھنا تو سہی بارش ہو رہی ہے یا رک گئی ہے؟ لڑکے نے کہا حضور! بارش ہو رہی ہے۔آقا نے کہا تمہیں کس طرح پتہ لگا؟ اس نے کہا ابھی ایک بلی میرے سرہانے کے پاس سے گزری تھی۔میں نے اسے ہاتھ لگایا تو وہ گیلی تھی جس سے میں سمجھتا ہوں کہ بارش ہورہی ہے۔پھر آقا نے کچھ دیر کے بعد کہا۔ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے ذرا اٹھ کر دروازہ بند کر دو۔لڑکے نے جواب دیا حضور! دو کام میں نے کئے تھے اب ایک کام آپ کر لیں۔آقا یہ جواب سن کر ہنس پڑا۔اس پر وہ جھٹ کھڑا ہو گیا اور آقا سے کہنے لگا حضور! مجھے انعام دیجئے کیونکہ میری ماں نے کہا تھا کہ جب آقا خوش ہو تو اُس سے انعام مانگ لیا کرنا۔یہ کہانی کتنی ہی دفعہ ہماری مجلس میں سنائی گئی ہوگی۔میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ کہانی سنی۔لیکن ہم بار بار یہ کہانی سننے کے باوجود پھر بھی اس لڑکے کی حماقت پر ہنس پڑتے ہیں۔مگر کیا یہی حال ہمارا نہیں؟ کیا قرآن کریم نے حنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَوْا مَنَ اَهْلُ الْكِتَبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفُسِقُونَ 3 میں یہ صراحت نہیں کی کہ تم خیر امت تب ہو جب یہ تین چیزیں تمہارے اندر پائی جائیں ؟ مگر ہم تبلیغ اسلام کرتے ہی نہیں۔اور ہم لوگوں کو نیک باتوں کی تلقین نہیں کرتے۔اور ہم انہیں بری باتوں سے روکتے نہیں۔ہم اللہ تعالیٰ پر ایمانِ کامل کا ثبوت نہیں دیتے۔لیکن جب کوئی ہم سے پوچھے تو ہم بڑے جوش سے کہتے ہیں کہ ہم خیر امت ہیں۔حالانکہ جس کام کے صلہ میں ہمیں خیر امت کہا گیا تھا وہ کام ہم کرتے نہیں۔قرآن کریم نے ہم کو صراحنا بتایا تھا کہ ہماری طرف سے تم کو یہ مزدوری یا یہ انعام اس لئے ملے گا اور تم اس لئے دوسری قوموں سے بہتر قرار دیئے جاؤ گے کہ تم تین کام کرو گے۔مگر ہم نتیجہ اپنی طرف منسوب کر لیتے ہیں اور شرط کو بھول جاتے ہیں۔پس ہماری جماعت کو اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے تبلیغ کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ کرنی چاہیئے اور تبلیغ ایسی ہونی چاہیئے جو اندرونی بھی ہو اور بیرونی بھی تم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ کو اچھی باتوں کی نصیحت کرے اور بُری باتوں سے رو کے۔تم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ اگر تمہارا قریبی ہمسایہ یا تمہارا ڈور کا ہمسایہ اسلام میں داخل نہیں تو اس کے سامنے اسلام