خطبات محمود (جلد 28) — Page 351
خطبات محمود 351 سال 1947ء پیش کرے۔پھر صرف ہمسایوں پر ہی بس نہیں اپنے تمام دوستوں اور عزیزوں اور رشتہ داروں تک اسلام کا پیغام پہنچاؤ۔اپنے اہلِ ملک کو اسلام کی تعلیم سے آگاہ کرو۔اور کوشش کرو کہ دنیا کے ہر فرد تک تم اسلام کا پیغام پہنچا دو۔اگر مسلمان اس نصیحت پر عمل کرتے تو آج نہ کوئی سکھ نظر آتا نہ ہندو۔نہ فساد ہوتے نہ لڑائیاں۔نہ ہندوستان کی تقسیم ہوتی اور نہ یہ جھگڑے پیدا ہوتے۔بلکہ سارا ہندوستان ہی پاکستان بنا ہوا ہوتا۔لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اب تک اس کا خیال نہیں آیا مگر اب جو مسلمانوں پر اتنا وبال آیا ہے کیا اس کے دیکھنے کے بعد بھی ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سمجھیں کہ خدا تعالیٰ نے خیر امت کے لئے تین شرطیں بیان کی ہیں۔جب یہ تین شرطیں ہم پوری کر لیں گے تب ہی خیر امت کہلائیں گے ورنہ نہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ 4 - بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب خرچ کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ اچھی چیزیں چھپا لیتے ہیں اور بُری چیز میں دے دیتے ہیں۔اُس بخیل آقا کی طرح جس کے پاس پھل آتا ہے تو وہ سڑا ہوا اور ڈی پھل چن کر اپنے نوکر کو بلاتا اور اسے پکار کر کہتا ہے کہ تم یہ پھل کھا لو۔اور سمجھتا ہے کہ اس نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی ہے۔حالانکہ اصل بات صرف اتنی ہوتی ہے کہ وہ پھل اس نے پاخانہ میں نہ پھینکا اپنے نوکر کو دے دیا مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہیں اعلیٰ درجہ کی نیکی کا مقام کبھی حاصل نہیں ہو سکتا جب تک تم خدا تعالیٰ کے لئے وہ چیز خرچ نہ کرو جس سے تم محبت اور پیار رکھتے ہوا دیکھو! یہ بات انسانی فطرت میں داخل ہے کہ وہ اچھی چیز کو ضائع نہیں ہونے دیتا اور بُری چیز کو پھینک دیتا ہے۔اگر ہم دنیا کی ساری قوموں سے اچھے ہو جائیں تو کیا ہم خیال بھی کر سکتے ہیں کہ ہم تو اپنی اچھی چیزوں کو بچالیا کرتے ہیں مگر ہمارا خدا نعوذ باللہ اتنا بے وقوف ہے کہ وہ اپنی اچھی سے اچھی چیز کو فنا کر دے گا ؟ اگر ہم خیر امت ہو جائیں گے تو یقیناً ہمارا خدا ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔کیونکہ کوئی آقا اپنا اچھا مال ضائع نہیں کیا کرتا۔پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور تبلیغ پر زور دو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی نصرت تھوڑوں کو بھی حاصل ہوتی ہے اور بھوں کو بھی۔وہ خود فرماتا ہے كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِاِذْنِ اللهِ 5- کتنی ہی چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہوتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آجایا کرتی ہیں۔مگر اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا یہ بھی