خطبات محمود (جلد 28) — Page 349
خطبات محمود 349 سال 1947ء تبلیغ کرتے ہیں، اچھی باتوں کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں اور بری باتوں سے لوگوں کو روکتے ہیں۔یعنی ان باتوں کی تعلیم دیتے ہیں جو قرآنی نقطہ نگاہ سے پسندیدہ ہیں اور اُن باتوں سے روکتے ہیں جو قرآنی نقطہ نگاہ سے ناپسندیدہ ہیں۔یہ تین چیزیں ہیں جو ہمیں خیر امت بناتی ہیں۔مگر ہم شرطی جملہ میں سے صرف ایک بات لے لیتے ہیں اور دوسرے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔یہ یوں کہو کہ ہم جزا کو لے لیتے ہیں اور شرائط کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ہماری حالت بالکل اُس شخص کی سی ہے جسے کہا تو یہ جاتا ہے کہ کام کرو تو تمہیں مزدوری ملے گی۔مگر وہ کام کرتا نہیں اور مزدوری کا مطالبہ شروع کر دیتا ہے۔ہم بھی اپنے آپ کو خیر امت کہتے ہیں مگر تین باتیں جو قر آن کریم نے بتائی ہیں اُن پر عمل نہیں کرتے۔گویا ہماری مثال اُس بے وقوف نو جوان کی سی ہے جس کا باپ مر گیا تو اُسے اور اُس کی ماں کو فاقے آنے شروع ہو گئے۔ایک دن اُس کی ماں نے اسے کہا کہ بیٹا ! باہر جاؤ اور کماؤ یہ حالت آخر کب تک رہے گی۔جب وہ تیار ہو کر باہر جانے لگا تو ماں نے اسے کہا دیکھنا بیٹا ! اپنی ساری تنخواہ مجھے بھیج دینا۔اس نے کہا اگر میں ساری تنخواہ بھیج دوں گا تو خود کیا کروں گا ؟ ماں نے کہا ملازمین کو وقتاً فوقتاً انعامات بھی ملا کرتے ہیں تم ان انعاموں کی رقوم سے گزارہ کرلیا کرنا۔اس نے کہا مجھے کیا معلوم کہ انعام کس طرح ملا کرتا ہے؟ ماں نے کہا اگر اچھی طرح کام کرو گے تو تمہیں ضرور انعام ملے گا۔اور اگر نہ ملے تو جب تم دیکھو کہ تمہارا آقا خوش ہے تو اُس وقت اُس سے خود بھی انعام مانگ لیا کرنا۔بیٹے نے کہا مجھے یہ کس طرح پتہ لگے گا کہ اس وقت میرا آقا خوش ہے؟ ماں نے کہا جب آقا کسی بات پر ہنس پڑے تو تم سمجھ لینا کہ وہ خوش ہے۔یہ تعلیم لے کر وہ گھر سے نکل کھڑا ہوا اور کہیں جا کر ملازم ہو گیا۔ایک دفعہ اس کا آقا کسی سفر کے لئے گیا تو اس لڑکے کو بھی اس نے اپنے ساتھ لے لیا۔راستہ میں ایک جگہ ٹھہرے تو رات کو کچھ دیر جاگنے کے بعد آقا نے کہا کہ دیاگل کر دو کیونکہ روشنی میں مجھے نیند نہیں آتی۔لڑکے نے کہا حضور ! آپ کو روشنی میں نیز نہیں آتی اور مجھے اندھیرے میں نیند نہیں آتی۔آپ اپنے سر پر لحاف ڈال لیں تو دونوں کا کام بن جائے گا۔آپ کے لئے اندھیرا ہو جائے گا اور میرے لئے روشنی رہے گی۔ایک لڑکے کی زبان سے یہ جواب سن کر آقا نے مزید کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا اور سر پر لحاف ڈال کر لیٹ رہا۔تھوڑی دیر گزری تو جی بارش شروع ہوگئی۔کچھ وقفہ کے بعد اس نے یہ پتہ لگانا چاہا کہ بارش ابھی تک برس رہی ہے یا تھم چکی