خطبات محمود (جلد 28) — Page 342
خطبات محمود 342 سال 1947ء ہوتا تو بتا تا کہ کس طرح لڑائی کی جاتی ہے۔مگر دوسرے صحابہ نے اس بات پر بھی بُرا منایا۔لیکن وہ منفر د مثال ہے اور پھر وہ ایسی مثال ہے جس میں کہنے والے نے کر کے دکھا دیا۔اور جو کچھ زبان سے کہا تھا اس کا اپنے عمل سے ثبوت دے دیا۔حدیثوں میں آتا ہے جب احد کی جنگ میں فتح ہوئی اور مسلمان پیچھے ہٹ آئے تو چونکہ مالک نے دیر سے کچھ کھا یا نہیں تھا اور بھوک لگی ہوئی تھی وہ ایک طرف بیٹھ کر مطمئن ہونے کی حالت میں چند کھجوریں کھا رہے اور اپنا پیٹ بھر رہے تھے۔ٹہلتے ٹہلتے وہ ایک مقام پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ ایک چٹان پر بیٹھے رور ہے ہیں۔وہ عمر کو روتا دیکھ کر حیران ہوئے اور کہا عمر ! یہ رونے کا کون سا موقع ہے۔یہ تو خوش ہونے کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو فتح دی اور اسے غلبہ حاصل ہوا۔حضرت عمر نے کہا ما لک ! شاید تم کو معلوم نہیں کہ فتح کے بعد کیا ہوا۔دشمن نے پیچھے سے حملہ کر دیا اور چونکہ میدان میں تھوڑے سے آدمی تھے اُن میں سے کچھ مارے گئے اور کچھ دھکیل کر پیچھے ہٹا دیئے گئے۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس حملہ میں شہید ہو گئے۔مالک کے پاس اُس وقت ایک ہی کھجور تھی اور وہ اسے منہ میں ڈالنے ہی والے تھے کہ جب انہوں نے یہ بات سنی تو انہوں نے کہا عمر! اگر یوں ہوا ہے تو پھر بھی رونے کی کوئی بات نہیں۔اگر ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوکر ا گلے جہان پہنچ چکے ہیں تو پھر ہمارا کام یہاں بیٹھ کر رونا نہیں ہمیں بھی وہیں چلنا چاہیئے جہاں ہمارا آتا ہے۔پھر انہوں نے کہا میرے اور جنت کے درمیان سوائے اس کھجور کے اور کیا چیز حائل ہے۔یہ کہتے ہوئے انہوں نے کھجور پھینکی تلوار ہاتھی میں لی اور اکیلے دشمن پر ٹوٹ پڑے۔بعد میں ان کی تلاش کی گئی تو وہ نہ ملے۔مُردوں کی تلاش کی گئی تو اُن میں بھی نہ ملے۔جب مُردے اٹھائے گئے تو معلوم ہوائی کہ ایک جسم کے مختلف ٹکڑے میدان میں بکھرے پڑے ہیں وہ ٹکڑے اکٹھے کئے گئے تو معلوم ہوا کہ 70 ٹکڑے ہیں۔اُس وقت مالک کی ہمشیرہ نے ایک انگلی کے نشان سے پہچانا کہ یہ میرے بھائی کی لاش ہے 3۔تو مومن دعوی نہیں کرتا بلکہ اپنی قربانی پیش کرتا ہے۔ہاں وہ صحیح قربانی ہوتی ہے اور نظام کے ماتحت ہوتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری تعلیم یہ ہے کہ گورنمنٹ کا مقابلہ نہیں کرنا اور یہی ہماری کمزوری کی وجہ ہے۔اسی وجہ سے پولیس اور ملٹری ہمیں دھکیلتی چلی گئی۔اس کے علاوہ بعض اور