خطبات محمود (جلد 28) — Page 343
خطبات محمود 343 سال 1947ء غلطیاں بھی ہوئی ہیں مگر وہ نا تجربہ کاری کی بناء پر ہوئی ہیں۔ورنہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اخلاص کا قادیان والوں نے نہایت ہی اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے۔سوائے کچھ منافقین کے جو بھاگ کر یہاں ہے آگئے ہیں یا سوائے کچھ منافقین کے جو وہاں جاسوسیاں کر رہے ہیں۔یا سوائے کچھ منافقین کے جو وہاں گھبرا ر ہے ہیں اور نکلنے کے لئے بے تاب ہیں۔میں بتا چکا ہوں کہ نظام کے ماتحت پہلے عورتوں اور بچوں کو نکالا جائے گا۔اس کے بعد بوڑھوں کو نکالا جائے گا۔سلسلہ کے کارکنوں کو نکالا جائے گا۔اور باقیوں کے متعلق میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں سے بھی ایک حصہ کو قرعہ کے ذریعہ باہر آ کر آرام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔اور ایک حصہ وہاں مرکز کی حفاظت کے لئے اُس وقت تک رہے گا جب تک حکومت اُن کو جبر اوہاں سے نکال نہیں دیتی۔اگر حکومت ہمیں جبر انکال دے تو پھر یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو چیز ہمیں خدا نے دی تھی وہ ہم نے پیش کر دی۔جو چیز اس نے ہمیں نہیں دی ہم اُسے استعمال نہیں کر سکتے۔حکومت ہمارے اختیار میں نہیں۔اس لئے حکومت اگر جبر ا ہمیں وہاں سے نکال دے گی تو پھر ہم پر کوئی الزام عائد نہیں ہوسکتا۔بہر حال آج ہر احمدی سمجھ لے کہ اب احمدیت پر ایک نیا دور آیا ہے۔اور اب اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک نیا عہد کرنا پڑے گا۔میرے نزدیک آج سے ہر مخلص کا خواہ وہ دنیا کے کسی گوشہ میں رہتا ہو یہ فرض ہے کہ وہ فوجی فنون سیکھے۔اگر عارضی طور پر وہ فوجی ملازمت اختیار کر سکتا ہو تو عارضی طور پر اور اگر مستقل طور پر فوجی ملازمت اختیار کر سکتا ہو تو مستقل طور پر فوجی ملازمت اختیار کرے۔کیا پتہ کہ کس وقت پاکستان پر حملہ ہو جائے۔اُس وقت ہمارا پہلا فرض ہوگا کہ ہم پاکستان کی پوری پوری مدد کریں۔ہندوستان میں جو احمدی ہوں گے اُن کے متعلق تو یہی قانون ہو گا کہ وہ ان ہندوستان یونین کے فرمانبردار ہیں۔مگر جو پاکستان میں رہنے والے ہونگے اُن کا فرض ہوگا کہ وہ حکومت پاکستان کی مدد کریں اور دوسروں سے زیادہ جوش اور اخلاص اور ہمت سے پاکستان کی حفاظت کریں۔اور اس ملک کو دشمن کے حملوں سے پوری طرح محفوظ رکھیں تا کہ اس ملک سے اسلام کا نشان مٹ نہ جائے۔اور ایک ہزار سال کے بعد اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہ ہو جائے۔اگر ایسا ہوا تو یہ بڑی بھاری شرم کی بات ہوگی۔بڑی بھاری ذلت کی بات ہوگی۔بڑی بھاری رسوائی کی بات ہوگی۔آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت ہمارے ہاتھ میں ہے۔