خطبات محمود (جلد 28) — Page 341
خطبات محمود 341 سال 1947ء قربانی کے لئے ہر احمدی تیار ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان حالات اور واقعات کے بعد بھی ہماری جماعت میں بیداری پیدا نہیں ہوئی۔اب بھی میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں سستی پائی جاتی ہے۔اب بھی قربانی سے گریز کا مادہ اس میں نظر آتا ہے۔بیسیوں آدمی ہیں جو بہانے بنا بنا کر قربانی سے بچنا چاہتے ہیں۔آج ہی بیرونی جماعتوں کی طرف سے جو خطوط ملے ہیں اُن میں بعض اس قسم کے بھی کچھ خطوط تھے جن میں حفاظت مرکز کی سکیم کا ذکر کرتے ہوئے بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ملازم کے لئے یہ حکم نہیں ہو سکتا۔آخر ملا زم تین ماہ کے لئے کس طرح جا سکتا ہے۔اور اگر وہ ملازمت ترک کر دے تو یہ شریعت کے خلاف ہے۔اور بعض نے لکھا ہے کہ اگر ہم جائیں تو ہماری تجارت کو نقصان پہنچے گا۔مگر جہاں اس قسم کے بہانہ ساز ہماری جماعت میں پائے جاتے ہیں وہاں ایسے مخلصین بھی ہیں جو بیرونی جماعتوں سے یہاں پہنچ چکے ہیں اور اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب موقع ملے اور وہ قادیان پہنچیں۔اور کئی ایسے ہیں جو وہاں پہنچ کر اپنے فرض کو ادا کر چکے ہیں۔گویا ان کی وہی حالت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ -2 کچھ تو وہ ہیں جنہوں نے اپنے ارادوں۔کو پورا کر دیا ہے اور مقصد کو پالیا اور کچھ اس انتظار میں ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں اپنے وعدہ کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔بہر حال ان دنوں کے آنے کے بغیر مومن اور منافق کی تمیز نہیں ہو سکتی تھی۔آج مومن اور منافق بالکل الگ الگ ہو گئے ہیں۔اور عجیب بات یہ ہے کہ منافق ہی سب۔سے زیادہ اپنے اخلاص کا اظہار کرتے ہیں۔ان میں سے کئی ہیں جو خود بھی آگئے ہیں، اپنے بچوں کو بھی لے آئے ہیں اور پھر یہاں آکر اپنے بچوں کو چھپاتے پھرتے ہیں کہ کوئی اُن کو دیکھ نہ لے۔لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اپنے اخلاص کا بھی ڈھنڈورا پیٹتے چلے جاتے ہیں۔کاش! انہیں اتنی عقل ہوتی کہ ہم ایسے احمق نہیں کہ اُن کی اِس قسم کی منافقانہ تحریروں سے دھوکا کھا جائیں۔میں تمہیں کہتا ہوں یہ دن باتیں کرنے کے نہیں۔تم اپنی مالی اور جانی قربانیاں پیش کرو اور اپنے اخلاص کا عملی ثبوت دو۔صحابہ میں سے جو قربانیاں پیش کیا کرتے تھے وہ اُن قربانیوں کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا کرتے تھے۔صرف ایک مالک ہیں جنہوں نے بدر کے حالات سن کر کہا تھا کہ اگر میں