خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 319

خطبات محمود 319 سال 1947ء۔سے نہیں ڈرتا۔میں تو قوم کی نجات کے لئے اپنی جان پیش کرنا چاہتا ہوں۔پھر جب انہیں پتھراؤ کیا گیا تو اُس وقت بھی ان کے دل میں اپنی قوم کا کوئی کینہ اور بغض نہیں تھا بلکہ سنگسار کرنے سے پہلے جب انہیں گاڑنے لگے اور گاڑتے اس لئے ہیں کہ پتھروں کے ڈر سے انسان بھاگ نہ جائے تو صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ میں بھاگتا تو نہیں مجھے گاڑنے کی کیا ضرورت ہے۔پھر جب ان پر پتھر پڑنے لگے تو دیکھنے والوں کی گواہی ہے کہ صاحبزادہ صاحب بلند آواز سے یہ دعا کرتے جاتے تھے کہ اے میرے رب ! میری قوم پر رحم کر کیونکہ وہ جہالت سے ایسا کر رہی ہے۔یہ وہ شاندار چیزیں ہیں جو قوموں کو زندہ کیا کرتی ہیں۔بے شک صاحبزادہ صاحب مر گئے مگر کیا انہوں نے مرنا نہیں تھا۔اگر وہ عام لوگوں کی طرح بستر پر مر جاتے تو کیا ہم ان کا ذکر کر کے جماعت میں جوش پیدا کر سکتے تھے؟ کیا ہم یہ کہتے کہ دیکھو فلاں مولوی نے بستر پر جان دی ؟ اگر ہم ایسا کہتے تو کیا لوگوں پر اس کا کوئی بھی اثر ہوتا۔وہ کہتے ایک مولوی تھا جو مر گیا۔دنیا میں بہتیرے مولوی مرتے رہتے ہیں اگر وہ بھی مر گیا تو کیا ہوا۔در حقیقت اس قسم کی قربانی ہی ہے ہوتی ہے جو قوم کے نوجوانوں کو زندہ کیا کرتی ہے۔بے شک ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں مگر نوجوان جب اس قسم کے نمونہ کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں جوش پیدا ہوتا ہے اور وہ کہتے ہیں کیسا اچھا انجام تھا۔آؤ ہم بھی ایسی ہی قربانی کریں۔پس تم اپنے اندر ہمت پیدا کرو اور خدا تعالیٰ پر یقین رکھو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تیرے مکروں سے اے جاہل مرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنیوالی ہے1 پس آگیں ہمارے لئے بھڑکائی جائیں گی۔مگر ہوا کیا ؟ اصل چیز تو وہ صداقت ہے جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء دنیا میں لایا کرتے ہیں۔کیا خدا تعالیٰ کے نبی مارے نہیں گئے ؟ کیا خدا تعالیٰ کے نبیوں کے نشانات مٹائے نہیں گئے ؟ حضرت داؤڈ کے بعد بخت نصر نے ساری عمارتیں تہہ و بالا کر دیا تھیں اور مسجد اقصیٰ کا نشان تک بھی اس نے نہ چھوڑا تھا مگر ان باتوں سے ہوا کیا ؟ بات تو وہ تھی جو موسی" لا یا۔اور کیا موسیٰ" کی لائی ہوئی بات آج تک دنیا مٹا سکی؟ پس جہاں تم خدا تعالیٰ پر