خطبات محمود (جلد 28) — Page 318
خطبات محمود 318 سال 1947ء جائے گی۔انسان کو اپنے اندر صرف ایمان پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔تم اپنے ایمانوں کا جائزہ لو ، سچائیوں پر قائم ہو جاؤ ، راستی اور صداقت کو اپنا شعار بناؤ ، خدا کے ذکر میں مشغول رہو، اس کی معرفت اپنے اندر پیدا کرو تاکہ خدا تم کو نظر آجائے اور اسی دنیا میں وہ تم کو اپنا جلوہ دکھا دے۔جب تک خدا نظر نہیں آتا دنیا کی مصیبتیں پہاڑ اور اس کے ابتلاء بے کنارہ سمندر نظر آتے ہیں۔مگر جب خدا نظر آ جاتا ہے تو اسکی نگاہ میں یہ ساری چیزیں بیچ ہو جاتی ہیں۔تب ایک ہی چیز اس کے سامنے ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا قول پورا ہو۔اور خدا تعالیٰ کے قول کے مقابلہ میں نہ حکومتیں کوئی حقیقت رکھتی ہیں نہ بادشاہتیں کوئی حقیقت رکھتی ہیں اور نہ جائیداد میں کوئی حقیقت رکھتی ہیں۔وہ ہنستا ہوا جاتا اور اپنی قربانی پیش کر کے خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جاتا ہے۔صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب ہمارے جیسے ہی ایک انسان تھے۔کیا ان کے جسم میں جس نہیں تھی اور ہمارے اندر ہے؟ کیا ان کے بیوی بچے نہیں تھے اور ہمارے بیوی بچے ہیں؟ یہاں تو صرف عوام الناس کی شرارت ہے۔اوپر کی گورنمنٹ کم سے کم منہ سے اب تک یہی کہتی چلی آرہی ہی ہے کہ ہم اقلیتوں کا تحفظ چاہتے ہیں۔مگر وہاں یہ حالت تھی کہ حکومت تک ان کی مخالف تھی۔آخر بادشاہ نے ان کو بلا کر کہا دیکھیں مولوی صاحب! میرے دل میں آپ کا بڑا ادب ہے اور میں آپ کو چھوڑ نا چاہتا ہوں لیکن اگر یونہی چھوڑ دوں تو مولوی میرے مخالف ہو جائیں گے۔آپ کی صرف اتنا کریں کہ جب آپ سے پوچھا جائے کہ کیا آپ قادیانی ہیں؟ تو آپ خواہ دل میں کچھ عقائد رکھیں زبان سے کہہ دیں کہ میں قادیانی نہیں ہوں اس طرح میں آپ کو آسانی سے چھوڑ سکوں گا۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف نے کہا بادشاہ ! تمہیں جان کی قیمت معلوم ہوتی ہو گی مجھے تو اس کی کوئی قیمت معلوم نہیں ہوتی اور میں تو یہ قربانی پیش کرنے کے لئے ہی تمہارے پاس آیا ہوں۔مجھے تو پہلے بھی کہا گیا تھا کہ میں احمدیت کا اظہار نہ کروں مگر میں نے انکار کر دیا۔دراصل گورنر جس کے سامنے وہ پہلی دفعہ پیش ہوئے وہ بھی ان کے شاگردوں میں سے تھا۔جب آ۔اُس سے ملے تو اس نے بھی کہا کہ آپ یہاں سے بھاگ جائے ورنہ آپ کی جان خطرہ میں پڑ جائے گی۔صاحبزادہ صاحب نے کہا تمہاری بہتھکڑیاں کہاں ہیں لا ؤ اور میرے ہاتھوں میں پہناؤ۔مجھے تو آج رات خدا نے بتایا ہے کہ مجھے سونے کے کنگن ڈالے جائیں گے۔پس میں اپنی موت