خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 320

خطبات محمود 320 سال 1947ء یقین رکھو وہاں تم سمجھ لو کہ جن چیزوں کو وہ اسلام کے لئے مفید سمجھے گا انہیں ہر قسم کی تباہی سے بچا لے گا اور جن چیزوں کا تباہ ہونا تمہارے اندر جوش پیدا کرنے کے لئے ضروری ہوگا ان کی حفاظت سے وہ ہاتھ اٹھالے گا۔اور کہے گا یہ عارضی چیزیں ہیں اصل چیز یہ ہے کہ تمہارے اندر وہ مغز پیدا ہو جائے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا اصل مقصد ہے۔تم اس مغز کے پیدا کرنے کی کوشش کرو اور اپنے دماغوں کو ان مصیبتوں پر رونے کے لئے مت لگاؤ جو تم پر پڑیں۔بلکہ تم اس کامیابی اور کامرانی کے حصول کے لئے تیار ہو جاؤ جو خدا تعالیٰ کے فرشتے تمہارے لئے لے کر کھڑے ہیں۔تمہارے لئے مشکلات کا آنا ضرور تھا اور میں بار بار تمہیں اس طرف توجہ دلا چکا تھا۔کئی لوگ مجھ سے ملتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کے خطبات میں جب اس قسم کی باتیں پڑھتے ہیں تو ہم حیران ہوتے ہیں کہ اتنا مبالغہ کیوں کیا جاتا ہے۔مگر آج وہ سب کچھ پورا ہوا جو آپ کہتے چلے آرہے تھے۔میں نے تمہیں بتایا اور بار بار بتایا کہ مولویوں کی گالیاں کچھ چیز نہیں جب تک کہ تم تلوار کے نیچے ذبح نہیں ہو گے اُس وقت تک تم نبیوں کی جماعتوں کی مانند نہیں بن سکتے۔ضروری ہے کہ تمہیں دین کے لئے قید کیا جائے ،تمہیں دین کے لئے قتل کیا جائے اور تمہیں دین کے لئے اپنی جائیدادوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔چنانچہ دیکھ لو اب تلوار چلائی گئی یا نہیں؟ کئی سو آدمی اب تک ہماری جماعت میں سے مارا جا چکا ہے۔قادیان میں اس وقت دس ہزار آدمی موجود ہے اور ان میں سے ہر آدمی قربان ہونے کے لئے تیار ہے۔اور جہاں تک مادی اسباب کا تعلق ہے۔یہی نظر آتا ہے کہ ان کو مار ڈالا جائے گا۔ہاں خدا تعالیٰ کا ہاتھ ان کو بچا سکتا ہے اور ہم اس سے امید کامل رکھتے ہیں کہ وہ قادیان کو بچائے گا۔مگر اپنی جانیں بچانے کے لئے نہیں بلکہ اس لئے کہ اس کا جلوہ ظاہر ہو۔ورنہ ہر مخلص اپنی جان دینے کو تیار ہے۔اور صرف منافق کا دل اس کے سینہ میں دھڑکتا ہے۔مخلص اور ایماندار اپنے آپ کو یوں محسوس کرتا ہے جیسے کہ خدا کے فرشتے کے پہرہ میں وہ پھر رہا ہو۔خلاصہ یہ کہ میں نے تم کو ہوشیار کیا اور بار بار کیا مگر تم کہتے رہے کہ یہ ایک شاعرانہ مبالغہ ہے جو کیا جا رہا ہے۔حالانکہ مجھے خدا تعالیٰ نے سب کچھ بتا دیا تھا اور خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ کسی نبی کی جماعت ان قربانیوں کے بغیر ترقی نہیں کیا کرتی۔تم کو بھی خون سے غسل دے دیا گیا ہے۔اور یہی غسل ہوتا ہے جو آخری غسل ہوتا ہے۔اگر اب بھی سنبھل جاؤ اور اپنے اندر