خطبات محمود (جلد 28) — Page 125
خطبات محمود 125 سال 1947ء اُسے قرض لے کر روپیہ دے دینا چاہیئے اور پھر اُس قرض کو آہستہ آہستہ ادا کرنا چاہیئے۔ہم نے دفتر کے ریکارڈ کے لحاظ سے اندازہ کیا ہے کہ اس وقت تک 90 لاکھ روپیہ کی جائیداد میں وقف ہو چکی ہیں۔اس حساب سے 90 ہزار روپیہ تو ان جائیدادوں سے ہی آجائیگا۔بلکہ اس سے زیادہ کی امید ہے کیونکہ اس وقت پہلے کی نسبت ڈیوڑھی، دُگنی قیمتیں ہو چکی ہیں اور دو لاکھ سے زائد کی آمد میں وقف ہیں۔اگر ہم وقف شدہ جائیدادوں کو موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ جائیدادیں ڈیڑھ لاکھ کی بنتی ہیں۔اس طرح ہمیں ان سے ڈیڑھ لاکھ روپیہ وصول ہوسکتا ہے۔دولاکھ تنخواہوں کو ملا کر ساڑھے تین لاکھ ہو جاتا ہے۔ہم نے جائیداد پر سواں حصہ اس لئے مانگا ہے کہ ہم نے جائیداد کی سالانہ آمد کو بارہ مہینوں پر تقسیم کیا تو اس طرح جائیداد کا سواں حصہ بنتا تھا۔سو ہم نے سویں حصہ کا مطالبہ کیا ہے۔تنخواہوں والوں اور جائیداد والوں کو ملا کر امید ہے کہ تین ساڑھے تین لاکھ روپیہ چندہ آجائے گا۔حالانکہ واقفین جائیداد کی تعداد بہت کم ہے۔یعنی لاکھوں کی جماعت میں سے کل اٹھارہ سو ہے اور ہمارے پوری شرح سے ماہوار چندہ ادا کرنے والوں کی تعداد چھپیں تمیں ہزار ہے۔اگر پورے طور پر اعداد و شمار جمع کئے جائیں تو ہو سکتا ہے کہ چالیس ہزار نکل آئیں۔پھر بہت سا حصہ بیکاروں کا بھی ہوتا ہے اور ان کا بھی جو کہ کبھی کبھی چندہ دیتے ہیں۔اگر اس حصے کو بھی شامل کر لیا جائے تو ساٹھ ہزار کے قریب یہ تعداد بن جاتی ہے۔لیکن ساٹھ ہزار میں سے صرف اٹھارہ سو نے جائیداد وقف کی ہے۔پھر ہم اکثر عورتوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ کچھ زیور ضرور رکھتی ہیں۔عورتوں کو زیور پہنے کا شوق ہوتا ہے خواہ ایک دوروپے کی چیز ہی کیوں نہ پہنیں۔اور غریب سے غریب عورت بھی آٹھ آنے کی بالی ضرور پہنتی ہے۔ہر شخص جو دیتا ہے اُسے اُس کے مطابق ہی ثواب ملتا ہے۔اگر ایک شخص کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے اور وہ اس کا سواں حصہ ایک ہزار دیتا ہے تو ایک اٹھتی کی بالی پہننے والی عورت ایک پائی دے کر اس کے برابر ثواب حاصل کر لیتی ہے اور وہ دونوں ثواب میں ایک جیسے شریک ہیں۔میں بیان کر رہا تھا کہ اکثر عورتوں کے پاس کچھ نہ کچھ زیور ضرور ہوتا ہے۔اگر ہم سمجھیں کہ ہماری جماعت میں ہیں ہزار عورتیں ہیں اور ہم اوسط قیمت ہر ایک عورت کے زیور کی پچاس روپے رکھیں تو دس لاکھ روپیہ بنتا ہے اور اس طرح دس ہزار روپیہ چندہ آ سکتا