خطبات محمود (جلد 28) — Page 126
خطبات محمود 126 سال 1947ء ہے۔ہم نے جائیداد کے متعلق یہ شرط لگائی ہے کہ ایسی جائیداد ہونی چاہیئے جس پر اس شخص کا گزارہ ہو۔جس پر اس کا گزارہ نہ ہو وہ ایک ماہ کی آمد دے۔اس طرح میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ بچے بھی اس سے پیچھے نہ رہیں اور بورڈنگ اور کالج کے طلباء کو جو خرچ گھروں سے ملتا ہے اس میں سے کھانے کا خرچ اور سکول یا کالج کی فیس نکال کر جو بچتا ہو وہ اس کے برابر ادا کریں۔افسروں کو چاہیئے بورڈروں کے علاوہ دوسرے لڑکوں کو بھی کی شامل کریں۔ہمارے سکول میں اٹھارہ سولر کا ہے۔اگر فی لڑکا پانچ روپے اوسط لگائی جائے تو نو ہزار روپیہ لڑکوں سے لیا جا سکتا ہے۔اسی طرح کا لج میں سوا دو سو کے قریب لڑکے ہیں۔کھانے اور کالج کی فیس کے علاوہ ان کے پاس یقیناً دس روپے سے زیادہ بچتے ہوں گے۔اگر دس روپے فی لڑکا اوسط لگائی جائے تو سوا دو ہزار کے قریب روپیہ کالج کے لڑکوں سے وصول ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ زنانہ سکول ہے۔پھر کارخانے ہیں۔میں نے سنا تھا کہ تمام کارخانوں کی اوسط مزدوری پندرہ ہزار روپیہ ہوتی ہے۔اگر یہ درست ہے تو پندرہ ہزار روپیہ کا رخانوں سے وصول کیا جا سکتا ہے۔پھر تاجر ہیں۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ سارے تاجر مخلص نہیں۔لیکن اکثر تاجروں کی وہ ذہنیت جو انکم ٹیکس کے متعلق ہوتی ہے وہی چندوں میں بھی آجاتی ہے۔اگر پیش آنے والے خطرات کو سمجھتے ہوئے اور ادنیٰ ذہنیت سے بالا ہوتے ہوئے تاجر قربانی کریں تو قادیان کے تاجروں اور صناعوں سے پچاس ساٹھ ہزار روپیہ جمع ہو سکتا ہے۔غرض جہاں تک میرا اندازہ ہے سوالاکھ یاڈیڑھ لاکھ روپیہ قادیان سے جمع ہوسکتا ہے۔پچیس ہزار صدرانجمن نے دیا ہے۔پندرہ ہزار کارخانوں والے دیں۔یہ چالیس ہزار ہو گیا۔تاجر پیشہ اگر ساٹھ ہزار دیں تو یہ ایک لاکھ بن گیا۔انجمن کے کارکنوں کا ماہوار بل پچیس ہزار کا ہوتا ہے۔عورتوں اور زمینداروں کے چندے اس کے علاوہ ہیں اور کچھ روپیہ تحریک نے بھی دیا ہے۔اس طرح ڈیڑھ لاکھ روپیہ بآسانی جمع ہوسکتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ایک آدمی اپنے فرض کو ادا کرنے کی کوشش کرے۔اگر جماعت کے تمام افراد تک یہ تحریکیں پہنچ جائیں تو مجھے امید ہے کہ پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ جمع ہو سکتا ہے لیکن چونکہ پورے طور پر ہر جگہ تحریک کا پہنچنا مشکل ہوتا ہے اس لئے اگر ہم پنے معمولی ذرائع سے کام لے کر بھی اس تحریک کو پھیلائیں تو ہماری مانگ سے بہت زیادہ