خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 124

خطبات محمود 124 سال 1947ء ایک ہزار روپیہ رکھیں تو اس طرح چھپیں لاکھ روپیہ بن جاتا ہے۔پھر بعض دفعہ لوگ بچوں کی تعلیم کے لئے روپیہ جمع کرتے رہتے ہیں۔اسی طرح بعض لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیوں کے لئے روپیہ جمع کرتے ہیں۔اور ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کے لڑکے اور لڑکیاں ابھی جوان نہ ہوئے ہوں اور ان کو دو چار سال کے بعد اس روپے کی ضرورت پیش آنے والی ہو ایسے لوگوں کو بھی چاہیئے کہ وہ یہ روپیہ جماعت کے خزانہ میں جمع کرائیں اور دفتر محاسب کو یہ لکھ کر دے دیں کہ ہم یہ روپیہ لینے سے ایک دو یا تین ماہ پہلے اطلاع دیں گے اور نوٹس دینے کے بعد روپیہ منگوائیں گے۔اس طرح ان کا روپیہ زکوۃ سے بچ جائے گا کیونکہ کئی لوگ ایسے ہیں جو اپنے روپے پر ز کو ہ ے ادا نہ کرنے کی وجہ سے گنہگار بن رہے ہیں۔اگر تم ایک ماہ یا دو ماہ کے نوٹس کے بعد لو گے تو اس طرح تمہارا روپیہ بطور قرض ہو گا اور قرض پر زکوۃ نہیں ہوتی۔پھر اس طرح تمہارا ایمان بھی مضبوط ہوگا کیونکہ تم طبعی طور پر یہ خیال کرو گے کہ ہم نے اپنا روپیہ اللہ تعالیٰ کے دین کے مرکز میں جمع کرا دیا ہے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ ہے کہ وہ ہمارے مرکز کا محافظ ہے۔دوسرے ہم نے مرکز کی ضرورتوں کو اپنی ضرورت پر مقدم کر دیا۔قادیان کے تو اکثر دوستوں کا روپیہ صدرانجمن کے خزانہ میں ہی ہوتا ہے لیکن قادیان والوں کو بھی یہ فیصلہ کر لینا تھی اہئے کہ ہم بھی ایک ماہ کے نوٹس کے بغیر روپیہ واپس نہیں لیں گے اس طرح وہ بھی زکوٰۃ سے بچ جائیں گے۔اور باہر والوں کو بھی میں یہی مشورہ دیتا ہوں۔میرا خیال ہے کہ اگر صحیح طور پر اس بات کو لوگوں تک پہنچا دیا جائے تو پچاس لاکھ روپیہ کا ایک ماہ میں جمع ہونا کوئی مشکل بات نہیں۔مجلس شوری کے موقع پر ہی چار لاکھ کے قریب و عدے ہو گئے تھے۔حالانکہ شوری پر آنے والے دوست تمام جماعت کا سواں حصہ بھی نہیں بلکہ ہزارواں بھی نہیں تھے۔اگر ہم ان کو دسواں حصہ بھی سمجھیں تو بھی چالیس لاکھ روپیہ بنتا ہے جو جماعت سے اکٹھا ہو سکتا ہے۔اور اگر ان کو سواں حصہ سمجھیں تو بھی اس حساب سے چالیس کروڑ روپیہ بنتا ہے۔پس دوستوں کو پوری کوشش کے ساتھ اس تحریک کو پھیلانا چاہیئے۔دوسری تحریک یہ ہے کہ ایسے نازک وقت میں ادنیٰ سے ادنیٰ قربانی جس کا ہر واقف جائیداد سے مطالبہ کیا گیا ہے وہ جائیداد کی قیمت کا سواں حصہ ہے اور جنہوں نے اپنی تنخواہ وقف کی ہوئی ہے ان سے ایک ماہ کی پوری تنخواہ مانگی گئی ہے۔کسی دوست کے پاس اس وقت روپیہ نہ ہو تو