خطبات محمود (جلد 28) — Page 109
خطبات محمود 109 سال 1947ء بیج ڈالتے ہوئے بخل سے کام لیتا ہے۔اگر واقع میں اللہ تعالیٰ موجود ہے اور وہ جزا سزا کا مالک ہے تو پھر ہر مومن کو اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی فکر رہنی چاہیئے۔لیکن اگر کسی شخص کے نزدیک یہ صداقتیں اس رنگ میں نہیں تو پھر اسے نماز میں وقت ضائع کرنیکا کیا فائدہ۔اور اسے صدقہ خیرات سے کیا ثواب حاصل ہو سکتا ہے۔لیکن جو شخص ان صداقتوں کا قائل ہے اور پھر بھی وہ قربانیوں کے پیش کرنے میں کوتاہی سے کام لیتا ہے ہم اس کے متعلق یہی سمجھیں گے کہ اُسے دین امینی سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔اگر اسے دلچسپی ہوتی تو وہ بلا وجہ اپنے آپ کو خسارہ میں نہ ڈالتا۔پس تمام دوستوں کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیئے کہ ان کی قربانی صحیح قربانی ہو اور وہ قربانی ان کے لئے باعث ثواب ہو۔اگر ہر شخص اپنے اندر حقیقی قربانی کا جوش پیدا کر لے تو ہم بہت جلد دوسری قوموں سے آگے نکل سکتے ہیں۔یہ خیال نہیں کرنا چاہیئے کہ ہم تو تھوڑے ہیں اور تھوڑے آدمی آگے نہیں نکل سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ قربانی کرنے والی قوم باوجو د تھوڑی ہونے کے بڑی بڑی قوموں پر بھاری ہوتی ہے۔جنگ بدر کے موقع پر کفار کی تعداد ایک ہزار کی تھی اور صحابہ کی تعداد 313 تھی۔جب مسلمانوں کا لشکر میدانِ جنگ میں اترا تو کفار نے ایک تجربہ کار آدمی کو بھجوایا کہ جا کر اسلامی لشکر کا اندازہ لگاؤ کہ مسلمانوں کی تعداد کیا ہے۔اس نے واپس جا کر بتایا کہ مسلمانوں کی تعداد تین سو سوا تین سو کے درمیان ہے۔پھر اس نے کہا گو مسلمانوں کی تعداد کم ہے لیکن اے میری قوم! میں آپ لوگوں کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ مسلمانوں سے لڑائی نہ کی جائے۔جب اس شخص نے یہ بات ی کہی تو لوگوں نے اس پر الزام لگایا کہ تم بزدل ہو اس لئے لڑنے سے منہ پھیرتے ہو۔اس نے کہا یہ بات نہیں کہ میں لڑنے سے ڈرتا ہوں بلکہ بات یہ ہے کہ میں نے سواریوں پر آدمی نہیں دیکھے بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں اور میں نے ان کے چہروں سے محسوس کیا ہے کہ وہ مر جائیں گے لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے۔3 چنانچہ جنگ بدر نے اس بات کی شہادت پیش کر دی کہ وہ تھوڑے سے سمجھے جانے والے لوگ ہی غالب آئے اور قربانی نے اپنا عظیم الشان نتیجہ پیش کر دیا۔لیکن ہمیشہ یاد رکھو کہ کوئی قربانی بھی بغیر رنگ لائے نہیں رہتی۔فوری طور پر بے شک اس کے نتائج نظر نہ آتے ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی لوگ چالا کیال