خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 108

خطبات محمود 108 سال 1947ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے قریب صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تمہیں کونسا ہے مال پسند آتا ہے؟ تمہیں اپنا مال پسند ہے یا دوسرے کا مال اچھا لگتا ہے یا جو ضائع ہو گیا وہ اچھا لگتا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کا جواب بالکل آسان ہے۔انسان کو وہی مال اچھا لگتا ؟ ہے جو کہ اُس کا اپنا ہو۔آپ نے فرمایا۔پھر جو مال مرنے تک تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہی ہو وہ حقیقت میں تمہارا مال ہے اور جو مال تم باقی چھوڑتے ہو وہ تو اولاد کا ہے وہ تمہارا نہیں 1 اور جو مال تم کھا پی لیتے ہو وہ ضائع ہو گیا وہ تم کو اگلے جہان میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اور واقع میں اگر دیکھا جائے تو انسان کا اپنا مال وہی ہوتا ہے جو اس نے اگلے جہاں میں بھیجا ہوتا ہے۔جو باقی چھوڑتا ہے وہ اس کی اولاد کے لئے ہے۔بعد میں وہ جس طرح چاہے گی خرچ کرے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرمان میں یہ ارشاد فرمایا کہ مومن کو یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ جتنی قربانی اُس سے ہو سکتی ہے وہ کرے تا کہ مرنے کے بعد اس کی اخروی زندگی اللہ تعالیٰ کے فضل سے زیادہ سے زیادہ کامیاب ہو۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تمہیں بھی تکالیف اور مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور تمہارے دشمنوں کو بھی تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں۔لیکن تم میں اور ان میں ایک بہت بڑا فرق ہے وہ یہ کہ تمہیں ان کے بدلہ میں ثواب کی امید ہے لیکن کفار کو تو ثواب کی امید نہیں۔2 جب وہ قربانی کرتے ہیں تو پھر تمہارے لئے قربانی کرنا کیونکر مشکل ہوسکتا ہے۔کیونکہ ان کی قربانیوں کی مثال تو ایسی ہے کہ کسی شخص کو یہ کہا جائے کہ تم دو من گندم کنویں میں پھینک دو۔اول تو وہ ہمیں پاگل سمجھے گا لیکن اگر کسی دباؤ کی وجہ سے کنویں میں پھینکنے پر تیار بھی ہوگا تو گالیاں دیتا ہوا چلا جائے گا۔بہر حال وہ یہ کام خوشی کے ساتھ نہیں کرے گا لیکن ایک زمیندار کو اگر ہم کہیں کہ اب مناسب وقت ہے فصل بوؤ تو وہ شخص دعا ئیں دے گا کہ ہم نے اسے وقت پر مشورہ دیا۔یہی حال قربانیوں کا ہے۔جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی کرتا ہے وہ ایسے کھیت میں بیج ڈالتا ہے جس سے اسے کئی گنا زیادہ ہو کر ملے گا اور جو شخص دوسری اغراض کے لئے قربانی کرتا ہے گویا وہ اپنا بیج دریا میں پھینکتا ہے اور کوئی شخص بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی قربانی ضائع جائے۔پس اس سے زیادہ احمق اور پاگل اور کون ہوسکتا ہے جو کہ سمندر میں یا دریا میں اپنا بیج پھینک دیتا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ احمق اور پاگل اور کون ہوسکتا ہے جو کہ کھیت میں