خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 110

خطبات محمود 110 سال 1947ء دغا بازیاں کرتے تھے اور مسلمانوں کو دکھ دینے اور شہید کرنے کے لئے نئے نئے طریقے سوچتے تھے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک قبیلہ کے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور کہا کہ ہم لوگ مسلمان ہونا چاہتے ہیں۔آپ ہمارے ساتھ کچھ عالم بھجوا دیں جو کہ ہمیں قرآن کریم سکھائیں۔آپ نے ان کی درخواست پر قرآن کریم کے ستر حفاظ ان کے ساتھ روانہ کر دیے۔ایک جگہ پہنچ کر اس شخص نے جو ان مسلمانوں کو لایا تھا اپنی قوم کے سرداروں کو کہلا بھیجا کہ میں مسلمانوں کو لے آیا ہوں۔اب تم ان کے قتل کا انتظام کرو۔چنانچہ پہلے مسلمانوں میں سے ایک نمائندہ کو بھجوایا گیا جو قبیلہ کے سردار سے باتیں کر رہا تھا۔اس کو پیچھے سے نیزہ مار دیا گیا۔اس کے مدسب قبیلہ نے مسلمانوں کی جماعت پر ( وہ جو گاؤں سے باہر تھی ) حملہ کر دیا۔اس واقعہ کی نسبت ایک شخص جو بعد میں مسلمان ہو گیا اور جو اس حملہ میں شریک تھا بیان کرتا ہے کہ جب میں نے ایک مسلمان کے پیچھے سے نیزہ مارا تو اس نے زمین پر گرتے ہوئے کہا فُزُتُ وَ رَبِّ الكَعْبَةِ - 4 خانہ کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔اور میں نے دیکھا کہ اس شہید ہونے والے پر گھبراہٹ اور بے چینی کے کسی قسم کے آثار نہ تھے۔یہ شہید ہونے والے حضرت ابوبکر کے غلام تھے جو ہجرت کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کے ساتھ شامل تھے۔وہ راوی کہتے ہیں کہ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ ان لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور یہ لوگ وطن سے دور ، اپنے بیوی بچوں سے دور ہیں ، اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے دور ہیں، لیکن ان میں سے کسی کے منہ سے یہ نہیں نکلتا کہ ہائے میں کہاں مارا گیا۔اور کسی نے کوئی واویلا اور بے چینی کا اظہار نہیں کیا بلکہ اگر کسی کے منہ سے کچھ نکلا تو یہ کہ خدا کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔میں حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے۔میں نے ایک شخص سے جو کہ مسلمانوں کے متعلق زیادہ واقفیت رکھتا تھا اس بات کا ذکر کیا کہ میں نے آج بہت عجیب قسم کا نظارہ دیکھا ہے کہ مسلمانوں میں سے ہم جب کسی کو قتل کرتے تھے تو ہر ایک کے منہ سے یہ نکلتا تھا۔فُزَتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ - کہ خدا کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا مرجانا کامیابی ہے؟ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔اس نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مرنے کو مسلمان سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں جب میں نے یہ بات سنی تو میں نے کہا وہ دین جھوٹا نہیں ہوسکتا۔5 جس کے ماننے