خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 41

خطبات محمود 41 سال 1947ء کے اردگرد سے گزرنے والی سڑک ساٹھ فٹ کی ہونی چاہئیے اور درمیان سے گزرنے والی سڑک پچاس فٹ سے کم نہیں ہونی چاہئیے۔یہ اعلان ہے جس کے مطابق گلیوں اور سڑکوں کے لئے بہر حال زمین لی جائے گی۔اگر خریدار خود بخود دیدے تو بات ختم ہو جائے گی اور اگر خریدار یہ سمجھے کہ اس صورت میں سودا مہنگا ہے اور جس قدر زمین باقی رہتی ہے اُسکی مجھ سے زیادہ قیمت وصول کی گئی ہے تو ہم مالک کو مجبور کریں گے کہ وہ راستے چھوڑے یا روپیہ واپس کر دے اور مین حسبِ سابق اپنے قبضہ میں لے لے اور رستے چھوڑ کر دوبارہ جس کے پاس چاہے فروخت کر دے۔بہر حال دونوں فریق کو کامل اختیار حاصل ہو گا۔اگر خریدار یہ سمجھے گا کہ رستے نکال کر بھی جو زمین بیچتی ہے وہ میری ادا کردہ قیمت پر مہنگی نہیں تو وہ خود بخو درستے دیدیگا۔اور اگر وہ اس سودے کو مہنگا سمجھے گا تو مالک اُسے قیمت واپس کر دے گا۔اور پھر مالک کو اختیار ہو گا کہ وہ حسب قانون رستے چھوڑ کر کسی اور کے پاس زمین فروخت کر دے۔یہ تو گزشتہ فروخت شدہ زمینوں کے متعلق میرا اعلان ہے۔آئندہ کے متعلق میں سمجھتا ہوں بعض کام ایسے ہوتے ہیں جو شہری کمیٹیوں کے سپر د ہوتے ہیں اور یہ کام بھی درحقیقت میونسپل کمیٹی کا ہی ہے کہ وہ سڑکوں اور گلیوں کا خیال رکھے۔اور آبادی کو ایسے رنگ میں بڑھنے نہ دے جو حفظانِ صحت کے اصول کے خلاف ہو اور شہر کی بدصورتی کا موجب ہو۔اگر میونسپل کمیٹی اس کام کو نہ کر سکے تو یہ کام امور عامہ کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔بہر حال یہاں کی میونسپل کمیٹی کے وہ ممبر جو ہماری جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں میں اُنہیں ہدایت کرتا ہوں کہ وہ فوراً ایک افسر مقرر کریں جس کا یہ کام ہو کہ وہ قادیان کی موجودہ آبادی سے آدھ آدھ میل کے فاصلہ تک چاروں طرف جس قدر زمین ہے اُس کا ایک نقشہ تیار کرے۔جس میں یہ تمام باتیں دکھائی جائیں کہ فلاں فلاں جگہ سڑکیں ہونگی ، فلاں فلاں جگہ گلیاں ہوں گی ، اور فلاں فلاں قطعات زمین ہیں جن میں رہائشی مکانات بنائے جا سکتے ہیں۔اور فلاں فلاں جگہ منڈی اور بازار بنیں گے تا کہ اس کے بعد جو مکان بھی تعمیر ہو اُس نقشہ کے مطابق ہو اور لوگوں کو معلوم ہو کہ سڑکوں اور گلیوں کے لئے اتنی زمین بھی بہر حال چھوڑنی پڑے گی۔بعد میں چونکہ جھگڑے پیش آتے ہیں اور لوگوں پر اپنی زمین کا کچھ حصہ چھوڑ نا گراں گزرتا ہے اس لئے