خطبات محمود (جلد 28) — Page 42
خطبات محمود 42 سال 1947ء پہلے سے ایسے نقشے تیار رکھنے چاہئیں تا کہ بعد میں جھگڑے نہ ہوں۔اور شہر کی داغ بیل ایسے رنگ میں پڑے جو خوبصورتی کا موجب ہو اور لوگوں کی صحتوں کو درست رکھنے والا ہو۔میونسپل کمیٹی اگر اس کام کو آسانی سے نہ کر سکے یا امور عامہ کا تعاون حاصل کرنا چاہے تو امور عامہ کو اس بارہ میں میونسپل کمیٹی کی مدد کرنی چاہئیے۔اور میونسپل کمیٹی کو ایسے رنگ میں کام کرنا چاہئیے کہ جماعت کا تعاون کمیٹی کو حاصل رہے اور کمیٹی کا تعاون جماعت کو حاصل رہے۔ہاں اگر کمیٹی اس تجویز کے مطابق روپیہ خرچ نہیں کر سکتی تو پھر امور عامہ اپنے طور پر ایسے نقشے جلد سے جلد تیار کرائے۔اور پھر اعلان کر دیا جائے کہ کوئی خرید و فروخت ان نقشوں کے خلاف نہ ہو۔پس میں افسران متعلقہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ قادیان کی موجودہ آبادی سے آدھ آدھ میل کے فاصلہ تک کے نقشے فوری طور پر تیار کئے جائیں۔اور جماعت میں اعلان کر دیا جائے کہ ان نقشوں میں جہاں سڑکیں دکھائی گئی ہیں وہاں سڑکیں ہی بنیں گی اور جہاں گلیاں دکھائی گئی ہیں وہاں گلیاں ہی بنیں گی۔یہ نہیں ہو گا کہ فروخت کرنے والا اپنی مرضی سے سڑک یا گلی کی زمین بھی خریدار کو دے دے اور اس طرح قادیان کی آبادی بدصورتی کا موجب بن جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس طریق سے جو ٹکڑے قابلِ فروخت قرار پائیں گے اُن میں اگر مکانات بنائے گئے تو وہ صحت افزاء بھی ہوں گے اور شہر کی خوبصورتی کا بھی موجب ہوں گے۔یہ سوال کہ زمین کی قیمتیں کس طرح کم کی جائیں ؟ اس کے متعلق میں نے بہت غور کیا ہے اور بعض تجویزیں میں نے سوچی بھی ہیں۔مگر سر دست میں انہیں بیان نہیں کرنا چاہتا۔اس وقت میں صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ میرا منشاء ہے آئندہ انفرادی خرید و فروخت کو لیڈ روک دیا جائے اور ایک کمیٹی بنا دی جائے جس کے واسطہ سے زمین بیچنے والے اپنی زمین بیچیں اور خریدنے والے خریدیں۔سڑکوں کا انتظام چونکہ میونسپل کمیٹی کے سپر د ہوتا ہے اس لئے سڑکوں کی درستی کے لئے ایک تجویز یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آئندہ ایک ٹیکس مقرر کر دیا جائے جو ہر زمین فروخت کرنے والے سے وصول کیا جائے۔مثلاً ہر زمین فروخت کرنے والا دس فیصدی قادیان کی ترقی اور صحت وغیرہ کی نگہداشت کے لئے دے۔اِس طرح سڑکوں کی درستی کا کام اس روپیہ سے لیا جاسکتا ہے۔اگر اس طرح کام کیا جائے تو مالک اور خریدار دونوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں ہوسکتا۔