خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 40

خطبات محمود 40 سال 1947ء مقاطعہ کیا جائے اور اعلان کر دیا جائے کہ اُس سے نہ کوئی زمین خریدی جائے اور نہ کسی اور قسم کا لین دین اُس سے رکھا جائے۔وہ اعلان یہ ہے کہ میری اوپر کی تصریحات کے بعد جس پر اب نو سال گزر رہے ہیں اگر کوئی زمین بھی ایسی فروخت ہوئی ہے جس میں سڑکوں اور گلیوں کے متعلق میری بیان کردہ ہدایات کو مدنظر نہیں رکھا گیا تو وہ سودے سب کے سب منسوخ کر دیئے جائیں۔اور خریدار کو اختیار دیا جائے کہ یا تو وہ اپنی زمین میں سے سڑکوں اور گلیوں کے لئے اتنی تھی جگہ نکالے جتنی جگہ کا میں نے اعلان کیا تھا اور نہ سلسلہ کی طرف سے مالک کو مجبور کیا جائے کہ وہ یا راستہ مقررہ قاعدہ کے مطابق چھوڑے یا خریدار کو روپیہ واپس دے دے اور زمین لے لے۔میں چونکہ مالک کا بھی نقصان نہیں چاہتا اس لئے اُس کے حالات کا بھی میں نے لحاظ کر لیا ہے۔مثلا ممکن ہے اُس نے زمین اس اثر کے نیچے بیچی ہو کہ سڑکوں وغیرہ کو نکال کر جو زمین بچتی ہے میں صرف اُس کی قیمت وصول کر رہا ہوں نہ کہ ساری زمین کی۔مثلاً وہ ہزار روپیہ پر ایک ٹکڑا بیچتا ہے اور سمجھتا ہے کہ در حقیقت اس کی پندرہ سو روپیہ قیمت ہونی چاہئیے ،مگر ہزار روپیہ پر میں اس لئے فروخت کرتا ہوں کہ اسے گلیوں اور سڑک وغیرہ کے لئے بھی رستہ دینا پڑے گا۔اگر کسی شخص نے اس رنگ میں کم قیمت وصول کی ہو تو اوپر کے قاعدہ سے اُس کے حق کی بھی حفاظتی ہو جائے گی۔جس طرح ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ خریدار کو کوئی نقصان پہنچے اسی طرح ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ مالک کو کوئی نقصان پہنچے۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ تمام دوستوں میں یہ اعلان کر دیتا ہوں کہ وہ تمام لوگ جنہور نے گزشتہ نو سال کے عرصہ میں کوئی زمین فروخت کی ہے وہ فوراً امور عامہ میں اپنے اپنے نام نوٹ کرا دیں اور فروخت کر دہ زمین کی تفصیل لکھ کر دیں۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو اُن کے ی متعلق سمجھا جائیگا کہ وہ جماعت کے باغی ہیں اور اُن سے تعلقات منقطع کر لئے جائیں گے۔اس می فہرست کے بن جانے پر ہر خریدار کو اختیار دیا جائیگا کہ یا تو وہ سود التسلیم کر لے اور گلیوں اور سڑکوں کیلئے خود ہی زمین دے دے۔اور اگر وہ اس پر راضی نہ ہو تو فروخت کنندہ کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ راستے حسب قواعد بنا کر دے یا پھر سودے کو منسوخ کر کے خریدار کو اُس کا روپیہ واپس کرے۔میرا اعلان یہ تھا کہ محلہ کی اندرونی گلیاں میں فٹ سے کم نہیں ہونی چاہیں۔محلہ