خطبات محمود (جلد 28) — Page 437
خطبات محمود 437 سال 1947ء مذہبی جماعتوں میں ایم۔اے یا بی۔اے یا وکیلوں اور بیرسٹروں کی کوئی شرط نہیں۔تم انہیں چھوڑو اور ایک مخلص مزدور کو ہی اپنا امیر یا سیکرٹری بنالو۔جس کے اندر ایمان ہے وہی تمہارا امام ہے۔اور اگر افسروں کی غلطی نہیں تمہاری ہے تو پھر افسر ذمہ دار ہیں اس بات کے کہ وہ کیوں جماعت کے گندے اور ناپاک حصہ کو کاٹ کر اُسے درست کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔وہ منافقوں کی پناہ بننے کی کوشش کیوں کرتے ہیں۔وہ منافقوں کو اپنی ڈھال کے پیچھے کیوں کیا چھپاتے ہیں۔جو ہمارا نہیں وہ ہمارا نہیں رہنا چاہیئے۔جو شخص دین کے لئے قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں وہ ایک دن کے لئے بھی اس جماعت کو بد نام کرنے کا موجب نہیں ہونا چاہیئے۔بہر حال دونوں صورتیں خطرناک ہیں۔اگر ائمہ بگڑے ہیں اور اس وجہ سے جماعت بھی بگڑ گئی ہے تو سوال یہ ہے کہ تم ایسے ائمہ کو کیوں نکال نہیں دیتے اور کیوں اُن کو اپنا امیر اور پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بنائے پھرتے ہو۔بگڑے ہوئے امام اور بگڑے ہوئے سیکرٹری کی اتنی بھی حیثیت نہیں جتنی اُس مری ہوئی مکھی کی ہوتی ہے جو دودھ میں پڑی ہوئی ہو۔کبھی مری ہوئی مکھی کو نکال کر پھینکنے میں تم درد محسوس کرتے ہو؟ اسی طرح بگڑی ہوئی جماعت کی بھی اتنی حیثیت نہیں جتنی ایک مری ہوئی مکھی کی ہوتی ہے۔اگر امیر اور پریذیڈنٹ دودھ یا چائے میں پڑی ہوئی مُردہ مکھی کو نکال کر پھینکنے میں کوئی درد محسوس نہیں کرتے تو بگڑی ہوئی جماعت کو الگ کرنے میں اُنہیں کیوں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جماعت کی اصلاح کی اہمیت افسروں کو مدنظر نہیں۔صرف جماعت کی تعداد کی اہمیت اُن کے مد نظر ہے۔جماعت سمجھتی ہے کہ اگر اُن کا ڈگری یافتہ امام ہو گا تب وہ معزز ہو گی۔حالانکہ یہ نہایت ہی حقیر اور ذلیل خیال ہے۔اور امراء اور سیکرٹری یہ سمجھ رہے ہیں کہ جماعت کے افراد کی جتنی تعداد زیادہ ہو گی اتنی ہی اُن کی عزت ہوگی۔یہ بھی تی نہایت ذلیل اور گرا ہوا خیال ہے۔اگر لاہور کی جماعت بجائے چھ یا پانچ یا چار ہزار ہونے کے صرف چالیس افراد پر مشتمل ہو جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہوں۔مگر وہ مخلصین کی جماعت ہو تو وہ ہزار چاند لگا دے گی جماعت کے ماتھے پر۔اور اگر جماعت کے امیر اور سیکرٹری بجائے بیرسٹر اور وکیل اور ایم۔اے اور بی۔اے ہونے کے ایسے افراد ہوں جو خواہ دیا سلائی بیچ کر گزارہ کرتے ہوں یا رسیاں بٹ کر گزارہ کرتے ہوں مگر وہ مخلص اور کام کرنے والے وجود