خطبات محمود (جلد 28) — Page 272
خطبات محمود 272 سال 1947ء میں عام طور پر لوگ بجائے اپنا شکوہ کرنے کے خدا تعالیٰ کا شکوہ کرنے لگ جاتے ہیں۔اور یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ اے خدا ! تیرے وعدے کدھر گئے۔اس میں شبہ نہیں کہ بعض اوقات انسان مصائب سے گھبرا اٹھتا ہے۔مگر اس گھبراہٹ کے یہ معنی تو نہیں ہونے چاہئیں کہ خدا تعالیٰ پر ایمان ہی نہ رہے۔مصائب اور شدائد میں مومنوں کے اندر بے چینی کا پایا جانا اور چیز ہے اور ی خدا تعالیٰ سے گلہ کرنا اور بات ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے موقع ہے بکہ لشکر قریش نے مسلمانوں پر عام دھاوا بول دیا تھا نہایت رقت کی حالت میں خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر کر دُعا کرتے رہے کہ اَللَّهُمَّ اِنْ تُهْلَكَ هَذِهِ الْعِصَابَةُ مِنْ اَهْلِ الْإِسْلامِ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ - 5 یعنی اے میرے اللہ ! اگر مسلمانوں کی یہ چھوٹی سی جماعت آج اس میدان میں بلاک ہو گئی تو دنیا میں تیری پرستش کرنے والا اور کوئی نہیں رہے گا۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے اندر بے چینی سی پائی جاتی تھی کیونکہ گو آپ کو خدا تعالیٰ کے وعدوں پر کامل یقین تھا مگر آپ خدا تعالیٰ کی بے نیازی کو دیکھتے ہوئے برابر رقت کے ساتھ دعائیں کرتے رہے۔اور اس دعا کے الفاظ بتاتے ہیں کہ آپ کو اپنی شہادت کا بھی خطرہ تھا۔کیونکہ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ تبھی صحیح ہوسکتا ہے جب آپ بھی اس شہادت میں شامل ہوں۔غرض با وجود اس کے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید کے وعدوں پر یقین کامل تھا آپ بیقرار ہو کر دعائیں کرتے رہے۔پس خدا تعالیٰ کے وہ وعدے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہیں وہ بہر حال سچے ہیں اور اپنے اپنے وقت پر ضرور پورے ہوں گے۔مگر کسی کا یہ کہنا کہ وہ وعدے 1947ء میں ی 1948ء میں کیوں پورے نہیں ہوئے بالکل حماقت ہے۔خدا تعالیٰ کے غیر معین وعدوں کے لئے وقت کی تعیین کرنا ہمارے لئے جائز نہیں۔جو شخص خدا تعالیٰ کے وعدوں کی تعین کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ پر حاکم بنا چاہتا ہے۔مومن کا کام تو صرف اتنا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر کر دعائیں کرتا رہے اور خدا تعالیٰ سے وہ چیز مانگتا رہے جو اُس کی اپنی نظروں میں اچھی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں یہی حکم دیا ہے کہ م وہ چیز مانگا کرو جو تمہاری نظروں کو اچھی لگے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے جب دعا مانگی تو انجیل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے یہی کہا کہ ے خدا! اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے مل جائے 6۔ہاں آخر میں آپ نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر یہ