خطبات محمود (جلد 28) — Page 273
خطبات محمود 273 سال 1947ء پیالہ ٹل نہیں سکتا تو پھر اے خدا ! تیری مرضی پوری ہو۔۔اسی طرح ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے دعا میں وہی کچھ مانگے جو اُسے اپنی نگاہ میں اچھا نظر آتا ہے۔لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہے کہ اے خدا! جو کچھ میں مانگ رہا ہوں اگر یہ میرے لئے مناسب نہیں تو پھر جو تیرے نزدیک اچھا ہو وہی ہو۔اگر مومن اس رنگ میں دعائیں کریں تو خدا تعالیٰ وہی کرے گا جو اُس کے نزدیک اچھا ہو گا۔ہم جن چیزوں کو بُرا سمجھتے ہیں جب تک اُن کے متعلق ہمیں خدا تعالیٰ سے علم نہ دیا جائے کہ یہ اچھی ہیں تب تک ہمارا فرض ہے کہ ہم دعائیں مانگتے رہیں کہ اے خدا! ہمیں ان سے بچالے۔اور جب اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے متعلق علم دے دے کہ یہ اچھی ہیں تو بھی حضرت مسیح کی طرح ہمیں یہ دعا مانگنی چاہیئے کہ اے خدا! ہمارے ساتھ وہ سلوک کر جو تیرے نزدیک اچھا ہے۔گویا علم ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ہمارا کام صرف دعائیں کرنا ہی ہے۔آگے خدا تعالیٰ کی مشیت پر منحصر ہے۔حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے سب حالات سے آگاہ کر دیا تھا مگر پھر بھی وہ دعائیں مانگتے رہے۔پس مومن کا کام صرف دعا ئیں کرنا ہے۔کسی کا غیر ذمہ دارانہ طور پر یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کا فلاں وعدہ فلاں وقت میں پورا کیوں نہیں ہوا بالکل نادانی ہے کی بات ہے۔ہم یہ تو خدا تعالیٰ کے فضل سے یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرے گا وہ ہمارے لئے بہتر ہوگا۔مگر ممکن ہے کہ الف یاب نے اپنے ذہن کے اندر جو نقشہ جما رکھا ہواس کے مطابق نہ ہو۔پس کسی الف یاب کا یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے خیالی نقشہ کے مطابق کیوں نہیں کیا سرا سر حماقت ہے۔اور اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ خدا تعالیٰ پر حاکم بننا چاہتے ہیں۔کیا ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہو سکتے ہیں؟ یا آپ سے بالا ہو سکتے ہیں کہ یہ کہیں کہ اگر خدا تعالیٰ ایسا نہ کرے جیسا کہ ہمارے خیال میں ہے تو ٹھیک ؟ نہیں۔ایسا کہنا تو کفر ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں ایک دفعہ رات کے وقت جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر نہیں ہیں۔( یہ بات حضرت عائشہ کے اُس زمانے کی ہے جب کہ انہوں نے پوری طرح عرفان حاصل نہ کیا تھا اور ابھی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے پوری طرح فیضیاب نہ ہو ئیں تھیں۔بعد میں تو اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں کافی عرصہ رہنے کی وجہ سے وہ عرفان حاصل کیا جو امت محمدیہ کی عورتوں میں ایک