خطبات محمود (جلد 28) — Page 271
خطبات محمود 271 سال 1947ء اس انتظام کو نباہنے میں جس قدر مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اُس کا اندازہ لگا نا ہر شخص کا کام نہیں۔اس لئے میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے کم سے کم خوراک پر گزر کی جائے اور کم سے کم لکڑی جلائی جائے۔اسی طرح مٹی کا تیل جہاں تک ہو سکے کم از کم استعمال کیا جائے۔اگر تم مٹی کے تیل کے لیمپ کی روشنی میں کوئی کام کر رہے ہو اور تمہیں تھوڑے بہت وقفہ کے لئے لیمپ کے پاس سے اٹھنا پڑے تو لیمپ کو بجھا کر اٹھو۔اور کوشش کرو کہ پہلے سے چوتھا نچواں بلکہ چھٹا حصہ تیل جلاؤ۔اور جس گھر میں پہلے دس لیمپ جلا کرتے تھے اُن کی بجائے ایک لیمپ جلایا جائے۔غرض ہر احمدی کم سے کم خوراک اور ضروریات زندگی کی چیزیں استعمال کرے تا کہ حالات جو سُرعت کے ساتھ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں ہمیں خور و نوش کی تکالیف میں مبتلا نہ کر دیں۔وقت نازک سے نازک تر ہوتا جا رہا ہے۔اگر دوست ابھی سے اپنے کھانے پینے پر کنٹرول کر لیں گے تو ان کے پاس کچھ ذخیرہ خوراک کا بچ سکتا ہے جو اُن کے غریب اور تہی دست بھائیوں کے کام آئے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مجلس میں فرمایا اشعری لوگ بہت اچھے ہیں۔اشعری لوگ بہت اچھے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اُن کے اندر کیا خوبی ہے؟ آپ نے فرمایا جب اس قوم کو کبھی قحط کا سامنا ہو تو وہ قوم اعلان کر دیتی ہے کہ قحط کا سامنا ہو رہا ہے۔یہ اعلان سُنتے ہی اس قوم کے تمام افراد اپنا اپنا غلہ لا کر ایک جگہ جمع کر دیتے ہیں۔اس کے بعد اُس جمع شدہ غلہ کو تمام لوگوں میں بالکل برابر برابر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔غریب کیا اور امیر کیا سب کو یکساں حصہ ملتا ہے۔کسی غریب اور امیر میں امتیاز نہیں کیا جا تا 4۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ گر بتایا ہے کہ ایسے مواقع پر غلہ جمع کر کے سب کو یکساں تقسیم کر دو۔حالات بتا رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں ایسا وقت آنے کا بھی امکان ہے کہ ہم اُس وقت ہر احمدی سے یہ امید رکھ سکیں کہ جس کے پاس ہیں من ہو وہ ہیں من ، جس کے پاس تھیں من ہو وہ تمہیں من ، جس کے پاس ساٹھ من ہو وہ ساٹھ من۔جس کے پاس ایک سیر ہو وہ ایک سیر اور جس کے پاس ایک پاؤ ہو وہ ایک پاؤ غلہ لا کر ایک جگہ جمع کر دے۔اور پھر ہم اُس غلہ کو برا بر برابر تقسیم کر دیں گے۔تیسری چیز جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مصائب کے ایام