خطبات محمود (جلد 28) — Page 405
خطبات محمود 405 سال 1947ء کوشش کرے گا۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں یہ بتایا گیا ہے کہ تم گزشتہ انبیاء اور ان کی جماعتوں کے نمونہ کو اپنے سامنے رکھو اور ہر وقت ان کے واقعات کو دیکھتے رہو۔تم پر اگر مصائب آتے ہیں تو تم دیکھو کہ کیا ایسی ہی مصیبتیں اُن پر نہیں آئیں۔پھر انہوں نے کیسا ثبات قدم دکھایا اور کس طرح اللہ تعالیٰ سے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کی جنگ میں زخمی ہو کر ایک گڑھے میں جا پڑے۔اور ب نے سمجھا کہ آپ مارے گئے ہیں تو اُس وقت صحابہ کی کیا حالت ہو گی۔یہ الگ بات ہے کہ آپ مارے نہیں گئے۔سوال یہ ہے کہ صحابہؓ نے کیا سمجھا تھا ؟ صحابہ یہی سمجھتے تھے کہ آپ شہید ہو چکے ہیں۔پھر غور کرو اور سوچو کہ جب صحابہ نے اُحد کی جنگ میں یہ دیکھا کہ اسلامی لشکر تتر بتر ہو چکا ہے۔جب صحابہ سمجھتے تھے کہ ہماری عورتیں اور بچے اب صرف آٹھ میل کے فاصلہ پر رہ گئے ہیں اور درمیان میں کوئی لشکر نہیں جو دشمن کے حملہ کو روک سکے۔جب صحابہ کے سامنے تین ہزار کا نہایت زبر دست اور تجربہ کا لشکر کھڑا تھا جس نے تمام اسلامی لشکر کو تتر بتر کر دیا تھا۔اس وقت صحابہ نے کیا سمجھا تھا ؟ اُس وقت اُمید کا 1/100 فیصدی پہلو بھی تو اُن کے سامنے نہیں تھا۔امید انسان کرتا ہے جتھے پر۔مگر اُس وقت مسلمانوں کا کوئی جتھا نہیں تھا۔تمام لشکر تتر بتر ہو چکا تھا۔اُمید انسان کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے کسی نبی یا اُس کے کسی برگزیدہ انسان کی موجودگی پر اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ انسان دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ مصائب کو دور فرما دے گا۔مگر وہ شخص اُن کے لی نزدیک شہید ہو چکا تھا اور اُس کا مقدس جسم لاشوں کے نیچے پڑا تھا۔پھر انسان سمجھتا ہے کہ ابھی ہماری اور فوجیں تیار کھڑی ہیں۔اگر ایک فوج کو شکست بھی ہوتی ہے تو کیا ہوا۔مگر اُحد اور مدینہ کے درمیان کوئی اسلامی فوج نہیں تھی اور تمام راستہ خالی پڑا تھا۔انسان سمجھتا ہے کہ اُس کے شہر کے قلعہ محفوظ ہیں۔مگر مدینہ میں کوئی قلعہ نہ تھا اور مسلمان عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا کوئی سامان ہے نہیں تھا۔پھر کون سی چیز تھی جس نے اُن کو ایمان پر قائم رکھا ؟ وہ کون سی بات تھی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آفَابِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ 5 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ آپ قتل نہیں ہوں گے۔مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ہمارا یہ رسول فوت ہو جائے یا قتل کر دیا جائے تو کیا تم اپنی ایڑیوں