خطبات محمود (جلد 28) — Page 359
خطبات محمود 359 سال 1947ء ماحول میں ڈال دیا جائے وہ اپنی پہلی حالت قائم کر لیتے ہیں۔اور ادنی ترین لوگ وہ ہوتے ہیں جن کے لئے ایک ماحول سے دوسرا ما حول اختیار کرنا سخت متعدّ رہوتا ہے۔جیسے گول کیک دوسرا ما حول اختیار نہیں کر سکتا۔اگر ایک گول کیک تم کسی دوسرے برتن میں ڈالو تو وہ اس کے مطابق اپنی شکل اختیار نہیں کرے گا بلکہ اس کے گوشے ادھر اُدھر سے ٹوٹ جائیں گے اور اس کی شکل مجھ ویسی ہی رہے گی جیسے پہلے تھی۔اس کے مقابلہ میں جو چیز بدلے ہوئے ماحول میں اس سے فائدہ اٹھانے لگتی ہے وہ درمیانی درجہ کی چیز ہوتی ہے اور اس کی مثال ایک تخمی درخت کی سی ہوتی ہے۔درخت کی گٹھلی لگائی جاتی ہے تو کچھ عرصہ کے بعد وہاں سے اُکھیڑ کر اُسے دوسری جگہ لگایا جاتا ہے۔پھر وہاں سے اُکھیڑ کر اُسے تیسری جگہ لگایا جاتا ہے۔اور یہ بار بار اکھیڑنا اور دوسری جگہ لگا نا مضر نہیں ہوتا۔بلکہ ماہر باغبان جانتے ہیں کہ اعلیٰ سے اعلیٰ پھل وہی درخت دیتا ہے جسے کم از کم چھ دفعہ ایک جگہ سے اکھیڑ کر دوسری جگہ لگایا گیا ہو۔پہلے وہ گٹھلی لگاتے ہیں اور جب چھ ماہ کا عرصہ اُس پر گزر جاتا ہے تو اُس گٹھلی کو اُکھیڑ کر دوسری جگہ بو دیا جاتا ہے۔چھ ماہ کے بعد اس پودے کو وہاں سے بھی اُکھیڑ کر تیسری جگہ لگایا جاتا ہے۔اور جب پھر چھ ماہ گزر جاتے ہیں تو اسے وہاں سے اُکھیڑ کر چوتھی جگہ لگایا جاتا ہے۔اور پھر چھ ماہ گزرنے پر اسے پانچویں جگہ لگایا جاتا ہے۔اور مزید چھ ماہ گزرنے پر اسے چھٹی جگہ لگایا جاتا ہے۔اس طرح بار بار اس کی جگہ تبدیل کی جاتی ہے۔اور جب کم از کم چھ دفعہ کسی درخت کی جگہ کو تبدیل کیا جائے تب اُس کا پھل نہایت میٹھا اور لذیذ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماہر باغبان تخمی آم اور تھی پودوں کی جگہ بار بار بدلتے رہتے ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب تک بار بار درخت کی جگہ کو بدلا نہیں جائے گا کبھی اچھا پھل نہیں آ سکے گا۔بلکہ جب تک پیوند کا طریق نہیں نکلا تھا درخت سے اُسی قسم کا درخت پیدا کرنے کے لئے یہی طریق اختیار کیا جاتا رہا تخمی درخت کبھی اس قسم کا پھل نہیں دیتا جس قسم کی گٹھلی ہوتی ہے۔مثلاً لنگڑے آم کی گٹھلی یا شمر بہشت کی گٹھلی لگاؤ تو ضروری نہیں کہ اس کے نتیجہ میں لنگڑ ایا شمر بہشت ہی پیدا ہو۔حیوانوں میں تو یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ گتے کا بیٹا گتا ہی ہوتا ہے۔مگر درختوں میں یہ قاعدہ نہیں۔درخت بالعموم اور نسل کا ہوتا ہے اور اُس کی گٹھلی کے ذریعہ جو درخت نکلتا ہے وہ اور نسل کا ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر دفعہ اس کی اپنی طاقت کم ہو جاتی ہے اور