خطبات محمود (جلد 28) — Page 348
خطبات محمود 348 سال 1947ء کے متعلق تو شکر و امتنان کے جذبات تمہارے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔مگر جب تم نماز میں کھڑے ہوکر یہ کہتے ہو کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ۔جس کا مطلب یہ ہے کہ تم اقرار کرتے ہو کہ تمہیں ہاتھ بھی خدا نے دیے، تمہیں پاؤں بھی خدا نے دیئے، تمہیں ناک بھی خدا نے دیا، تمہیں کان بھی خدا نے دیئے، تمہیں آنکھیں بھی خدا نے دیں تمہیں زبان بھی خدا نے دی تو اُس خدا کے متعلق تمہارے دل میں کیا احساسات پیدا ہوتے ہیں۔تم خدا تعالیٰ کی عطا کردہ بیسیوں چیزوں میں سے صرف ایک کو پندرہ دن کے علاج کے ذریعہ بچانے والے ڈاکٹر کے متعلق جو احساس رکھتے ہو کیا وہ احساس یہ ساری چیزیں دینے والے خدا کے متعلق کبھی تمہارے دلوں میں پیدا ہوا؟ اگر نہیں ہوتا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ تمہارے دلوں پر زنگ لگ چکا ہے۔تم اللہ تعالیٰ کے احسانات کو تسلیم کرتے ہو مگر اُس کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔تم منہ سے الحمد للہ کہتے ہو مگر تمہارے دل الْحَمْدُ لِلهِ نہیں کہتے۔تمہارے دماغ لالی اَلْحَمْدُ لِله نہیں کہتے۔او یہ نتیجہ ہے اس بات کا کہ زندہ ایمان ختم ہو گیا۔اور تم پر یا تو جمود طاری ہو گیا ہے اور یا تم پر موت وارد ہو گئی ہے۔جمود طاری ہونے کی وجہ سے تم اپنی جگہ پر کھڑے رہو گے۔اور موت طاری ہونے کی وجہ سے تم میں تحلیل شروع ہو جائے گی۔اسی طرح علم کا حال ہے۔علم پڑھانے والا انسان جو روزانہ اپنے علم کو استعمال کرتا ہے اُس کا اور حال ہوتا ہے۔اور جو شخص پانچ سات سال تک دوسروں کو پڑھانے سے محروم رہے اُس کا علم بعض دفعہ اتنا بھی نہیں رہتا جتنا اس کے شاگردوں کو ہوتا ہے۔کیونکہ پہلے اُس کا علم ٹھہرارہا اور پھر اس پر موت وارد ہوگئی۔یہی حال جماعتی نظام کا بھی ہوتا ہے۔اگر کوئی جماعت اپنے نظام میں زیادہ سے زیادہ نہیں بڑھتی تو آخر اس پر جمود طاری ہو جاتا ہے اور اس کے بعد اس پر موت وارد ہو جاتی ہے۔اس بڑھنے اور ترقی کرنے کے سلسلہ میں تبلیغ ایک ایسی چیز ہے جو بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے کہا ہے کہ سارے مسلمانوں کو تبلیغ کرنی چاہیئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِالله 2 - تم سب سے بہتر اُمت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہو۔اور اس خیر امت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تم لوگوں کو تبلیغ کرتے ہو، امر بالمعروف کرتے ہو اور بُری باتوں سے روکتے ہو۔گویا مسلمانوں کے سب سے اچھے ہونے کے معنی یہی ہیں کہ وہ سب دنیا کو