خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 310

خطبات محمود 310 (33) سال 1947ء اللہ تعالیٰ کے حضور عہد (فرموده 19 ستمبر 1947ء بمقام لاہور ) تشهد ،تعوّذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " آج میں کچھ زیادہ بولنے کی ہمت نہیں پاتا۔کیونکہ کل سے قادیان پر حملہ شروع ہو گیا ہے یعنی قادیان کے مغرب میں ایک بستی اسلام آباد نام کی تھی جو الگ گاؤں نہیں قادیان ہی کا حصہ تھی۔جس میں غریب لوگوں نے اس لئے مکانات بنا لئے تھے کہ قادیان کی زمینیں مہنگی ہوگئی تھیں اور وہ ان زمینوں کے خریدنے کی استطاعت اپنے اندر نہیں رکھتے تھے۔آریہ سکول کے پاس ایک دوسرے گاؤں کی کچھ زمین تھی اس میں انہوں نے اپنے لئے مکانات بنا لئے تھے۔اس میں اکثر حصہ غیر احمدیوں کا تھا لیکن آٹھ دس فیصدی احمدی بھی تھے۔اس بستی کو تباہ کر دیا گیا ہے ہے۔ایک احمدی مارا گیا ہے اور ایک غیر احمدی کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی مارا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی غنڈوں نے ان مکانوں کو لوٹ لیا ، چھتیں توڑ دیں اور مکانات کے دروازے بھی اُکھیڑ لئے۔اسی طرح قادیان کے پاس بسنے والے گاؤں میں سے ایک ایک دو دو میل کے دیہات کو ڈرا دھمکا کر خالی کرالیا گیا ہے۔عملی طور پر قادیان میونسپل MUNICIPAD) علاقہ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے حملہ نہیں ہوا۔مگر اسلام آباد اس کے محلوں میں سے ہی ایک محلہ تھا۔لیکن تھوڑی دیر ہوئی یعنی دو تین گھنٹے ہی گزرے ہیں کہ مجھے میاں بشیر احمد صاحب کا فون آیا کہ اس وقت کی جو حالت ہے وہ غالباً بیرونی دنیا سے یہ ہمارا آخری تعلق ہے۔انسان پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں۔لیکن بہادری سے لڑ کر مرنے کا موقع مل جائے تو یہ اور چیز ہوتی ہے۔اور ملٹری اور پولیس کی