خطبات محمود (جلد 28) — Page 311
خطبات محمود 311 سال 1947ء مدد سے اس موقع سے بھی انسان کو محروم کر دینا یہ ایسا ظلم ہے کہ انسانی دماغ اس سے زیادہ ظلم تصور میں بھی نہیں لاسکتا اور یہ مثالیں کثرت سے گزشتہ فسادات میں ملتی ہیں۔ایسی باتیں خواہ ہندوستان میں ہوں خواہ پاکستان میں نامناسب ہیں اور مہذب حکومتوں کو ختی سے ان باتوں کو روکنا چاہیے۔جس قوم پر حملہ ہوا ہو اُس میں حکومت کو ضرور ہتھیار تقسیم کرنے چاہئیں۔بہر حال قادیان اس وقت بیرونی اسلامی دنیا سے بالکل کٹ گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسے وقت میں باتیں کرنے کی بجائے انسان کو جی اپنا دل ٹٹول کر ایک ایسا عزم کر لینا چاہیے جس پر وہ مرتے دم تک قائم رہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور میں فوت ہوئے اُس وقت میری شادی تو ہو چکی تھی لیکن بچہ کوئی نہیں تھا۔ایک بچہ ہوا تھا جو چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو گیا تھا۔اُس وقت میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عزم کیا تھا اور خدا تعالیٰ کے سامنے قسم کھائی تھی کہ اگر جماعت اس ابتلاء کی وجہ سے فتنہ میں پڑ جائے اور ساری ہی جماعت مرتد ہو جائے تب بھی میں اس صداقت کو نہیں چھوڑونگا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لائے اور اُس وقت تک تبلیغ جاری رکھونگا جب تک وہ صداقت دنیا میں قائم نہیں ہو جاتی۔شاید اللہ تعالیٰ مجھ سے اب ایک اور عہد لینا چاہتا ہے۔وہ وقت میری جوانی کا تھا اور یہ وقت میرے بڑھاپے کا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے کام کرنے کے لئے جوانی اور بڑھاپے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔جس عمر میں بھی انسان اللہ تعالیٰ کے کام کے لئے کھڑا ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو برکت مل جائے اُسی عمر میں وہ کامیابی اور کامرانی حاصل کر سکتا ہے۔لاہو رہی تھا جس میں میں نے وہ عہد کیا تھا اور یہاں پاس ہی کیلیاں والی سڑک پر وہ جگہ ہے۔شاید یہاں سے ایک لکیر کھینچی جائے تو وہ جگہ اُسی کے محاذ میں واقع ہو گی۔بہر حال اسی لاہور میں اور ویسے ہی تاریک حالات میں میں اللہ تعالیٰ سے توفیق چاہتے ہوئے یہ اقرار کرتا ہوں کہ خواہ جماعت کو کوئی بھی دھکا لگے۔میں اُس کے فضل اور اُس کے احسان سے کسی اپنے صدمہ یا اپنے دکھ کو اس نے کام میں حائل نہیں ہونے دونگا بِفَضْلِهِ تَعَالیٰ وَ بِتَوْفِيقِهِ وَ بِنَصْرِهِ جو خدا تعالیٰ نے اسلام اور ان احمدیت کے قائم کرنے کا میرے سپرد کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے اس عہد کے پورا کرنے کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے میری تائید فرمائے۔باوجود اس کے کہ میں اب عمر کے لحاظ سے ساٹھ