خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 304

خطبات محمود 304 سال 1947ء تین گنی ہو سکتی ہے۔اگر پچاس سال کے مسلمان تکلیف اٹھا کر مر بھی جائیں تو کیا ہوا۔اسلام تو اس ملک میں زندہ ہو جائے گا۔قرآن کریم میں ساری تدبیریں اور سارے علاج موجود ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اُن تدابیر پر عمل کیا جائے اور اسلام کی غیرت اپنے دلوں میں پیدا کی جائے۔جب مذہب کی غیرت انسان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے تو وہ خود بخود ایسی ہے را ہیں نکال لیتا ہے جو اُس کو بام عروج تک پہنچانے والی ہوتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔مگر کسی انصاری عورت سے آپ نے شادی نہیں کی۔انصاری عورتیں ج آپ کے کام کو دیکھتیں تو بسا اوقات محبت کا اس قدر جوش اُن کے دلوں میں پیدا ہوتا کہ وہ مجلس میں آکر اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیتیں۔ہمارے ملک میں اگر کوئی لڑکی ایسا کہے تو ممکن ہے اُس کا باپ یا بھائی اُسے قتل کر دے۔مگر انصاری عورتوں کی یہ حالت تھی کہ جب وہ آپ کی باتیں سنتیں ، آپ کی تقریریں سنتیں ، آپ کے کام دیکھتیں تو اُن کے دلوں میں عشق کا ایسا جذبہ پیدا ہوتا کہ وہ بعض دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور کہتیں یا رسول اللہ ! ہم اپنا نفس آپ کو ہبہ کرتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مصلحت کے ماتحت انصاری عورتوں میں سے کسی کے ساتھ شادی نہیں کی۔مگر جب کوئی انصاری عورت یہ بات کہتی تو آپ بعض دفعہ اپنی معذوری کا اظہار کر دیتے اور فرماتے جزاک اللہ تمہاری قربانی خدا تعالیٰ کے حضور قبول ہو گئی ہے 12۔اور بعض دفعہ فرماتے کہ فلاں صحابی کو رشتہ کی ضرورت ہے تم اُس کے ساتھ شادی کر لو۔ایک دفعہ نہیں متعدد دفعہ ایسا ہوا کہ انصاری عورتوں نے اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔اور پیش بھی مجلس میں کیا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتیں تو وہ یہ برداشت نہیں کر سکتی تھیں کہ اس قیمتی چیز سے اُن کا تعلق نہ ہو۔تو وہ بڑی خوشی سے یہ پسند کر لیتی تھیں کہ وہ آپ کی دسویں یا گیارھویں یا بارھویں یا تیرھویں بیوی بن جائیں۔چنانچہ مجلس میں جہاں سینکڑوں ہزاروں آدمی بیٹھے ہوتے۔جب ایک عورت کا باپ اُس مجلس میں موجود ہوتا جب اُس کا بھائی اُس مجلس میں موجود ہوتا ، جب اُس کے رشتہ دار اس مجلس میں موجود ہوتے وہ آتی اور کہتی یا رسول اللہ ! میں نے اپنا نفس آپ کو ہبہ کیا۔یہ چیز ہے جو ایمان کی علامت ہے اور یہی وہ چیز ہے جو غیرت کا ثبوت ہوتی ہے ہے۔