خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 305

خطبات محمود 305 سال 1947ء تم بھی ایک دفعہ تکلیف اٹھا کر قربانی قبول کر لو۔تم دیکھو گے کہ پچاس سال کے اندر اندر مسلمان دو تین گنا ہو جائیں گے۔بلکہ 34 فیصدی مسلمان ہیں سال میں پچپن چھپن فیصدی ہو سکتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں پر ایک خطرناک دور آیا ہوا ہے۔اور خطرناک مصیبتوں میں خطرناک تدا بیر ہی کام آیا کرتی ہیں۔کسی کو کینسر ہوتا ہے تو اُسے کاٹنے سے ہی صحت حاصل ہوسکتی ہے۔اگر کسی کی آنکھ میں رسولی ہو جائے تو اُس آنکھ کو نکال کر ہی صحت حاصل ہوسکتی ہے زنک لوشن ZINC LOTIO کام نہیں آیا کرتا۔اسی طرح وہ عظیم الشان عذاب جو ملک پر آیا ہوا ہے اسے معمولی تدابیر سے دور نہیں کر سکتے اس کے لئے عظیم الشان جد و جہد اور عظیم الشان قربانیوں کی ضرورت ہوگی تب تم صحیح طور پر اسلام کے خدمت گزارا ور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم قرار پاؤ گے۔اور خدا کے فرشتے آسمان سے یہ کہیں گے کہ اس قوم کو فتح دینا ضروری ہے اور خدا بھی اپنی قبولیت سے دستخط اس پر ثبت کر دے گا۔پس ہمت نہ ہارو اور موت سے مت ڈرو۔موت انسان پر کئی دفعہ نہیں آتی بلکہ صرف ایک دفعہ آتی ہے اور جس چیز نے بہر حال آنا ہے اُس سے ڈرنے کے کیا معنی ہیں۔تمہیں اگر کوشش کرنی چاہیئے تو یہ کہ اگر تمہاری موت مقدر ہے تو خدا تعالیٰ کی راہ میں آئے اور ایسی حالت میں آئے کہ تم موت کو خدا تعالیٰ کا انعام سمجھو۔اور اس کڑوی قاش کے ملنے پر اپنا منہ مت بناؤ بلکہ یہ کڑوی قاش بھی اُس مزے سے کھاؤ جس مزے سے تم نے ہزاروں ہزار میٹھی قاشیں خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے کھائی ہیں۔حضرت لقمان کے متعلق لکھا ہے وہ ابھی چھوٹے بچے ہی تھے کہ ڈا کو انہیں قید کر کے لے گئے اور کسی رومی تاجر کے پاس اُنہیں بیچ دیا۔چونکہ حضرت لقمان خوبصورت اور ذہین تھے اُس نے حضرت لقمان کو عام نوکروں میں نہ رکھا بلکہ اپنے پاس بیٹوں کی طرح رکھنا شروع کر دیا اور ان سے اتنی محبت پیدا ہوگئی کہ جو چیز بھی اچھی سے اچھی اُس کے پاس آتی وہ پچن کر پہلے حضرت لقمان کو دیتا اور پھر خود کھاتا۔چونکہ وہ تاجر تھا اور دساور 13 کا مال اُس کے پاس اکثر آتا رہتا ہی تھا اُس کا معمول یہی تھا کہ پہلے وہ اچھی اچھی چیز میں حضرت لقمان کو دیتا اور پھر کسی اور کو دیتا۔ایک دفعہ دور کسی ملک سے بے موسم کا خربوزہ آیا۔آقا نے خربوزہ کی ایک پھانک کاٹی۔حضرت لقمان کو بلایا اور اُنہیں کھانے کے لئے دی۔حضرت لقمان نے وہ پھانک خوب مچا کے مار مار کر